خیبر پختونخوا پولیس کی اپگریڈیشن کے بعد اہلکاروں کو ملنے والے بقایاجات میں سنگین بدعنوانی کے الزامات سامنے آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اپگریڈیشن کی مد میں ہر ضلع کے حساب سے بقایاجات کے فنڈز باقاعدہ طور پر محکمہ اکاؤنٹ آفس میں منتقل ہو چکے تھے، تاہم جب پولیس اہلکاروں کو ان کی قانونی رقم ادا کرنے کا وقت آیا تو اکاؤنٹ آفس ڈیرہ اسماعیل خان نے مبینہ طور پر ہر اہلکار سے دس ہزار روپے رشوت طلب کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ آفس کی جانب سے یہ شرط رکھی گئی کہ جب تک پولیس اہلکار 10,000 روپے جمع نہیں کرائیں گے، انہیں اپگریڈیشن کے بقایاجات ادا نہیں کیے جائیں گے۔ یہ عمل نہ صرف کھلی کرپشن ہے بلکہ ان پولیس اہلکاروں کے ساتھ صریح ناانصافی بھی ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
اس حوالے سے ایک اہلکار کا وائس نوٹ بھی واٹس ایپ گروپ کا سامنے آیا ہے جس میں کہا جا رہا ہے
“ڈیرہ اسماعیل خان والو، غیرت کرو! آپ نے بہت زیادہ شہادتیں دی ہیں، اب جب آپ کا حق آپ کو مل رہا ہے تو اس کے لیے بھی آپ سے رشوت لی جا رہی ہے۔”
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عدالت کی جانب سے واضح احکامات موجود ہیں کہ پولیس کی اپگریڈیشن مکمل کر کے انہیں بقایاجات ادا کیے جائیں، مگر اس کے باوجود عدالتی احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے مبینہ طور پر رشوت وصول کی جا رہی ہے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی زیادہ سوالات کو جنم دیتا ہے کہ اکاؤنٹ آفس ڈیرہ اسماعیل خان، سابق وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے پڑوس میں واقع ہے۔ پی ٹی آئی حکومت ہمیشہ “مثالی اور غیر سیاسی پولیس” کے دعوے کرتی رہی اور پولیس اصلاحات کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی رہی، مگر اب یہی کرپشن سابق وزیراعلی ہاؤس کے پڑوس میں ہونے کے الزامات حکومت کے دعوؤں پر سنجیدہ سوال کھڑے کر رہے ہیں۔
پولیس اہلکاروں اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سابق وزیر اعلی کے اپنے شہر اور پڑوس میں اس سطح کی بدعنوانی ہو رہی ہے تو صوبے کے دیگر اضلاع کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:
اس معاملے کی فوری اور شفاف انکوائری کرائی جائے
اکاؤنٹ آفس میں رشوت طلب کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور پولیس اہلکاروں کو بغیر کسی رشوت کے ان کے بقایاجات ادا کیے جائیں۔