خیبر پختونخوا حکومت کی BISP سےپیسے لینے والے 25 ہزار سرکاری ملازمین سے وصولی

خیبر پختونخوا حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت جعل سازی کے ذریعے رقم حاصل کرنے والے 25ہزار سے زائد سرکاری ملازمین سے رقوم کی باقاعدہ وصولی آئندہ ماہ سے شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ملک بھر میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت جعل سازی کرنیوالے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 40ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔
اس سلسلے میں اکاﺅنٹنٹ جنرل (اے جی) آفس نے متعلقہ ملازمین کی تفصیلی فہرستیں مرتب کر کے تمام سرکاری محکموں کو ارسال کر دی ہیں اور کٹوتی کا طریقہ کار بھی وضع کر لیا گیا ہے۔اے جی آفس کے مطابق وصولی کا عمل تنخواہوں سے اقساط کی صورت میں مکمل کیا جائے گا۔ جن ملازمین کے ذمے ایک لاکھ روپے تک بقایاجات ہیں ان سے رقم ایک سال کے اندر وصول کی جائے گی جبکہ دو لاکھ روپے یا اس سے زائد واجبات رکھنے والوں کو ادائیگی کے لیے دو سال کا وقت دیا گیا ہے۔
اکاﺅنٹنٹ جنرل آفس نے محکموں کو ہدایت کی ہے کہ اگر کوئی ملازم تنخواہ میں کٹوتی پر اعتراض یا شکایت کرے تو اسے متعلقہ فہرست اور واجب الادا رقم کی مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔ذرائع کے مطابق صوبے کے مختلف سرکاری محکموں کے 25 ہزار سے زائد ملازمین یا ان کے قریبی رشتہ داروں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غیر قانونی طور پر مالی امداد حاصل کی تھی جو جعل سازی کے ذریعے وصول کی گئی۔
اس سے قبل 2020 میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے اسی نوعیت کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا تھا۔ان افراد میں دو ہزار سے زائد افسران گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تھے جبکہ باقی ملازمین گریڈ 16 اور اس سے نچلے درجات سے تعلق رکھتے تھے۔ محکمہ اسٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے ان ملازمین کی نشاندہی اور محکمانہ چھان بین جاری تھی جس کے بعد اب قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ان سے رقوم کی واپسی کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری وسائل کے غلط استعمال کی روک تھام اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں