اسلام آباد مسجد خدیجہ الکبری دھماکے میں ڈیرہ اسماعیل خان کے دو نوجوان شہید

ڈیرہ اسماعیل خان(سید وجاہت زیدی ) اسلام آباد کے نواحی علاقہ ترلائی میں واقع مسجد خدیجۃ الکبری میں ہونے والے خودکش حملے میں ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے دو افراد بھی شہید ہو گئے، جس سے شہر بھر میں سوگ کی فضا قائم ہو گئی۔ شہدا میں ڈیرہ شہر کے علاقے تھلہ فضل شاہ کا رہائشی 23 سالہ طالبعلم سید عباس مہدی ولد سید مرید شاہ شامل ہے، جو بیچلر آف ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس)کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گزشتہ چار برس سے اسلام آباد میں مقیم تھا اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ہائوس جاب بھی کر رہا تھا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق شہید عباس مہدی کی ڈگری مکمل ہونے میں صرف ایک سال باقی تھا۔ شہید نے سوگواران میں والد، والدہ، دو بھائی اور دو بہنیں چھوڑیں، جبکہ وہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔اسی حملے میں علاقہ فتح سے تعلق رکھنے والا 24 سالہ ممریز علی بلوچ ولد طارق خان بلوچ بھی شہید ہوا، جو پاک فوج کا اہلکار تھا اور نماز کی ادائیگی کے دوران خودکش حملے کا نشانہ بنا۔ واقعے کے بعد دونوں شہدا کی میتیں ضروری قانونی کارروائی کے بعد آبائی شہر ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کی جائیں گی، جہاں ان کی نماز جنازہ اور تدفین کی جائے گی۔ واقعے پر شہریوں اور مختلف سماجی حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق نماز جمعہ کے دوران مسجد خدیجہ الکبری میں تین حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہوئے اور دو افراد اندر چلے گئے جس کے بعد دھماکہ ہو گیا۔ دھماکے میں ضلعی انتظامیہ کے مطابق 31 نمازی جاں بحق اور 169 سے زائد زخمی ہو گئے جنہیں پولی کلینک اور پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور کی شناخت کر لی گئی ہے جس نے افغانستان سے تربیت لی تھی اور متعدد بار افغانستان کا سفر چکا تھا اور کچھ عرصہ پہلے افغانستان سے آیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں