خیبر پختونخوا حکومت کا سستا آٹا جو ایپ کا پیٹ تو بھر رہا مگر غریب کو بھوکا مار رہا ہے

رمضان علی جو سارا دن ریڑھا چلا کر اپنی روزی کماتا ہے پچھلے ایک ہفتہ سے اس شخص کو بدعائیں دیتا پھر رہا ہے جو اس کے نام پر سرکاری سستا آٹا وصول چکا ہے اور ڈسٹرکٹ فوڈ آفس ڈیرہ اسماعیل خان سے اسے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا ہے کہ آپ کے نام پر سستا آٹا جاری ہو چکا ہے اب یہ ایک بڑا سوال بن چکا ہے کہ جو سستا آٹا سرکاری ایپ میں رمضان کے نام پر جاری ہوا وہ کہاں گیا؟ کے پی حکومت کا سبسڈائز آٹا جو سرکاری ریکارڈ کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں روزانہ 6125 تھیلے فروخت کیا جا رہا مگر ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو خبر تک نہ ہونے کے مصداق عوام تک نہیں پہنچ پا رہا ہے۔
صوبے میں آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد صوبائی حکومت فلور ملز کو سبسڈائز گندم کا یومیہ کوٹہ مہیا کر رہی ہے تاکہ عوام کو سستا اور معیاری آٹا دستیاب ہو۔
ذرائع کے مطابق ڈویژنل اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ آفس فلور ملز کو 175 میٹرک ٹن گندم جاری کر رہا ہے جس سے یومیہ 20 کلوگرام کے 6 ہزار سے زائد تھیلے بازار میں رجسٹرڈ ڈیلرز کو فروخت کے لیے سپلائی کیے جا رہے ہیں تاہم کاغذات کی حد تک یہ درست ہے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ ڈیرہ امان خان کا کہنا ہے کہ ڈیرہ میں 11 فلور ملز رجسٹرڈ ہیں جنہیں سبسڈائز گندم کا مختص کوٹہ برابر تقسیم کیا جا رہا ہے۔ محکمہ فوڈ خیبر پختونخوا کی جانب سے فلور ملز کے لیے سبسڈائز گندم کی 100 کلوگرام فی بوری کی قیمت 10414 روپے مقرر کی گئی تاہم اس 100 کلوگرام گندم میں سے 70 کلوگرام آٹا ڈیلرز میں تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ فلور ملز %18 فائن آٹا اور %12 بران(چھان) اپنا حصہ نکال لیتی ہیں۔ ایس او پیز کے مطابق 20 کلوگرام آٹے کے تھیلے کی ریٹیل قیمت 2220 روپے مقرر کی گئی ہے یعنی فی تھیلہ جس کی ایکس مل قیمت 2190 ہے اس میں 30 روپے بھی فلور ملز کو فی تھیلہ کرایہ اور لوڈنگ کے اخراجات کے طور پر دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں پورا سال چلنے والی فلور ملز صرف چار ہیں جن میں مکہ فلور ملز، دامان فلور ملز، الٹی میٹ اور میوہ فلور ملز شامل ہیں جبکہ دیگر سات ملز سبسڈائز آٹا کی تقسیم کے وقت فعال کر دی جاتی ہیں اور ان میں سے تین کنڈی، سرحد اور مغل فلور ملز جو فعال نہ ہونے کے باوجود سبسڈائز گندم کا کوٹہ پورا حاصل کرتی ہیں اور عوامی سطح پر متعدد شکایات سامنے آئی ہیں جن میں بعض ڈیلرز کے ہاں ان فلور ملز کا غیر معیاری اور سیاہ آٹا فروخت کیا جا رہا ہے جسے عوام جانوروں کے لیے مضر گردانتی ہے ذرائع کے مطابق سیاسی شخصیات کی فلور ملز غیرمعیاری آٹا بیچ رہی ہیں جن پر کوئی ہاتھ ڈالنے والا نہیں ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ امان خان کے مطابق دو فلور ملز کے آٹا میں چھان زیادہ ہے تاہم نام بتانے سے انہوں نے گریز کیا ہے۔ سیکرٹری فوڈ کی جانب سے عوام کو ان کی دہلیز پر سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے دی گئی پالیسی کے تحت یونین کونسل اور ولیج کونسل کی سطح پر ڈیلرز مقرر کیے گئے ہیں تاہم ڈیرہ کے 74 رجسٹرڈ آٹا ڈیلرز میں سے تحصیل ڈیرہ میں 62 جبکہ دیگر چھ تحصیلوں میں صرف 12 آٹا ڈیلرز مقرر کیے گئے ہیں۔ امان خان کہتے ہیں شہری آبادی زیادہ ہونے کے باعث آٹا ڈیلرز شہر میں زیادہ ہیں جبکہ ضلع کی تقریبا 20 لاکھ کی آبادی میں شہری حصہ چار لاکھ کی آبادی پر مشتمل ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر میں تقریبا %70 سے زائد آٹا ڈیلرز فلور ملز کے اپنے ہی لوگ ہیں جو آٹے کی بجائے فی تھیلہ 50 روپے نقد وصولی کرتے ہیں اور ہر ڈیلر کو یومیہ ہزاروں روپے بیٹھے بٹھائے مل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ” یہاں پر حکومت خیبر پختونخوا کا سرکاری آٹا 2220 روپے فی 20 کلو تھیلہ دستیاب ہے ” ایسا پینافلیکس ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ ذرائع کے مطابق پچھلے دو ہفتوں سے جاری سستا آٹا کی تقسیم فوڈ آفس، فلور ملز اور آٹا ڈیلرز کی ملی بھگت سے سرکاری ایپ آئی سی ٹی میں جعلی انٹریز کر کےعوام میں دھڑا دھڑ سستا آٹا تقسیم کیا جا رہا ہے مگر عملی طور پر اس کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ ایس او پیز کے تحت تمام فلور ملز کو سبز مونوگرام والے بیگز میں اپنے نام کے ساتھ آٹا فروخت کے لیے ڈیلرز کو فراہم کرنا تھا تاہم کسی بھی جگہ ایسے تھیلے یا عوام کے لیے آگاہی مہم گرائونڈ پر موجود نہیں ہے۔ سیکرٹری فوڈ خیبر پختونخوا شاہ محمود سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پالیسی کے تحت پورے ملک کے شناختی کارڈز کی ایپ پر انٹری کر کے یہ سستا آٹا جاری کیا جا رہا ہے جس میں فیک انٹریز اور جعلی موبائل نمبرز کا اندراج کیا جا رہا ہے۔ جس تک عوام کی رسائی نہیں ہے شفافیت کے لیے ضروری ہے کہ صرف فلور ملز اور ڈیلرز تک ہی نہیں بلکہ صوبے کے عوام کو ان کے نام پر جاری سستا آٹا کے ڈیٹا تک رسائی دی جائے تاکہ جعل سازی سے بچا جا سکے اور غریب عوام تک اس سکیم کے ثمرات پہنچ سکیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں جعل سازی پر ایک صوبائی سطح پر انکوائری کرائی جانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو اور اس میں اینٹی کرپشن سرکل کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ ڈیرہ کا یومیہ کوٹہ 175 میٹرک ٹن ہے جو پچھلے دو ہفتوں سے جاری ہے اس لحاظ سے فلور ملز سے یومیہ 6125 آٹے کے تھیلے ڈیلرز میں یومیہ تقسیم کیے جا رہے ہیں اور اب تک ہر ڈیلر 1000 سے زائد تھیلے تقسیم کر چکا ہے۔ آخر کن لوگوں میں یہ سستا آٹا تقسیم کیا گیا ہے۔ حکومتی پالیسی کا مقصد عوام کو سستا آٹا ان کی دہلیز پر فراہمی کا تھا جس کا ڈیلرز اور ملز مافیا نے ڈویژنل فوڈ آفس کی ملی بھگت سے مذاق بنا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سیکرٹری فوڈ خیبر پختونخوا شاہ محمود، ڈائریکٹر فوڈ محسن اقبال، اینٹی کرپشن سرکل ڈیرہ اور ضلعی انتظامیہ کیا ایکشن لیتی ہے؟

اپنا تبصرہ لکھیں