امریکہ ایران مذاکرات کا “کریڈٹ” عمران خان کے کھاتے میں ڈالنے والا پی ٹی آئی کا ایم پی اے اپنے ہی بیان سے مکر گیا، صحافی کے خلاف NCCIA میں شکایت درج کرا دی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی نے بالاکوٹ میں عمران خان رہائی کے سلسلے میں ممبر سازی مہم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے خلاف ملک میں بے بنیاد مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں اور اپنی مرضی کے ججز بٹھا کر انہیں سزائیں بھی دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات کے خلاف ان کی جماعت ایک نئی توانائی کے ساتھ پرامن جدوجہد کا آغاز کر رہی ہے۔
اپنے خطاب کے دوران انہوں نے خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ صلح میں کردار کا دعویٰ کر رہے ہیں، تاہم ان کے بقول اگر پاکستان کا کوئی کردار ہے تو اس میں اس مؤقف کا بھی حصہ ہے جس میں امریکی اڈے دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
منیر لغمانی نے کہا کہ اگر ماضی میں یہ انکار نہ کیا جاتا تو آج پاکستان اس پوزیشن میں نہ ہوتا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی قسم کی بات چیت میں کردار ادا کر سکے۔ ان کے مطابق اس کا کریڈٹ “Absolutely Not” کہنے والے کو دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت کا مقصد پاکستان میں حقیقی آزادی، اظہارِ رائے کی آزادی اور شہریوں کے لیے انصاف کی فراہمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک عوام کو انصاف نہیں ملے گا، ملک میں حقیقی بہتری ممکن نہیں۔
جیسے جیسے معاملہ سامنے آیا، اس نے ایک بار پھر آزادی صحافت، سیاسی ابلاغ اور پاکستان میں صحافتی رپورٹنگ کے خلاف قانونی کارروائی کی حدود کے گرد وسیع تر خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ اب اپنی ہی تقریر کے خلاف ایم پی اے نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی میں ہزارہ ایکسپریس نیوز کے سی ای او کے خلاف شکایت کے اندراج کے لیے پہنچ گیا ہے جس پر سائبر کرائم ایبٹ آباد سرکل نے 20 اپریل کو صحافی کو طلب کر لیا ہے تاہم یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی کے ایم پی اے عمران خان کو دیئے گئے کریڈٹ سے یوٹرن لیتے ہوئے اپنی کی گئی تقریر کے خلاف کارروائی کرنا چاہتا ہے اور جو تقریر بغیر کسی سیاق و سباق کے میڈیا میں رپورٹ کی گئی ہے اس کا سارا الزام ایک صحافی پر عائد کر کے جان خلاصی کرنا چاہتا ہے۔
ایک شدید ردعمل میں، ڈیجیٹل میڈیا الائنس پاکستان (DigiMAP) کی قیادت نے ایم پی اے کی تقریر اور مقامی میڈیا کی رپورٹنگ سے متعلق حالیہ تنازعہ کے بعد صحافی کے خلاف کارروائی کی مذمت کی ہے۔
ڈیجی میپ کے صدر سبوخ سید، انفارمیشن سیکرٹری عدنان عامر، سیکرٹری کمیونیکیشن شازیہ محبوب اور اتحاد کے دیگر اراکین کے ساتھ، صحافیوں کے خلاف اس اقدام کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔
ہفتہ کو ایک بیان میں، DigiMAP کی قیادت نے کہا کہ صحافیوں کو ان کی رپورٹنگ پر نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور یہ آزادی اظہار کے آئینی حق کو مجروح کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کے پیشہ ور افراد کو دباؤ، دھمکی یا قانونی ہراساں کیے بغیر اپنے فرائض سرانجام دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔
سبوخ سید نے کہا کہ میڈیا کی آزادی کے تحفظ اور خطے بھر میں مفاد عامہ کی صحافت میں مصروف دکانوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ DigiMAP ان صحافیوں اور تنظیموں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے جو عوامی مسائل کو ذمہ داری سے اجاگر کرتے رہتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پریس کو خاموش کرنے یا ڈرانے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مزاحمت کی جائے گی اور صحافتی آزادی کے دفاع کے لیے اجتماعی کارروائی کی جائے گی۔