پاکستان میں سرکاری ملازمین کے لیے ’سوشل میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ‘ کا نیا ضابطہ جاری

حکومت پاکستان نے سرکاری ملازمین کے لیے ’سوشل میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ‘ کا نیا ضابطہ جاری کر دیا ہے۔
حکومت پاکستان نے سرکاری ملازمین کے لیے ضابطہ اخلاق کو مزید سخت کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے استعمال اور سیاسی سرگرمیوں میں شمولیت کے حوالے سے نئے قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں۔
14 اپریل کے گزٹ میں شائع ہونے والے ’سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026‘ کے تحت سرکاری ملازمین کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر کڑی نگرانی رکھی جائے گی۔
نئے قواعد کے تحت سرکاری ملازمین اب سوشل میڈیا پر اپنی مرضی سے کوئی بھی مواد پوسٹ کرنے یا کسی سیاسی اور متنازع بحث کا حصہ نہ بننے کے پابند ہوں گے۔
یہ نیا ضابطہ اخلاق ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند برسوں میں سرکاری ملازمین، بالخصوص پولیس اور دیگر محکموں کے اہلکاروں کی جانب سے فیس بک، ایکس (سابقہ ٹویٹر) اور ٹک ٹاک پر اپنی دفتری ذمہ داریوں یا یونیفارم میں ویڈیوز اور مواد شیئر کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
ان پلیٹ فارمز پر اکثر ویڈیوز میں حکومتی پالیسیوں پر تبصرہ یا غیر پیشہ ورانہ رویہ دیکھنے میں آیا جس پر حکام کی جانب سے بارہا باز پرس کی جاتی رہی ہے۔
اس حوالے سے محکمہ پولیس نے متعدد تادیبی کارروائیاں بھی کی ہیں کئی جوانوں کو مختلف اوقات میں وردی میں رقص کی ویڈیوز بنا کر ٹک ٹاک پر پوسٹ کرنے کی وجہ سے معطل کیا ہے۔
نئے قواعد کے رول 17 کے تحت کوئی بھی سرکاری ملازم ’کیڈر ایڈمنسٹریٹر‘ کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی ویب سائٹ، وی لاگنگ، پوڈکاسٹ یا کسی بھی قسم کے کنٹینٹ شیئرنگ پلیٹ فارم کا مالک نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کے انتظام میں حصہ لے سکتا ہے۔
تاہم قواعد میں یہ استثنا موجود ہے کہ اگر کوئی ملازم کسی ایسے نجی یا محدود گروپ میں مواد شیئر کرتا ہے جو عوامی سطح پر نہیں ہے تو وہ اس ضابطے کے دائرہ کار میں نہیں آئے گا۔
اگر کوئی ملازم گمنام یا فرضی اکاؤنٹ کے ذریعے ایسی کوئی معلومات یا مواد شیئر کرتا ہے جس سے حکومت یا اس کے اداروں کی ساکھ متاثر ہو یا وہ شرمندگی کا باعث بنے، تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے متعلقہ سپروائزنگ افسر سے تحریری اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے اور ان کا استعمال صرف دفتری امور اور تصدیق شدہ معلومات تک محدود ہو گا۔ ان اکاؤنٹس پر ذاتی تشہیر یا لائف سٹائل کی نمائش پر مکمل پابندی ہو گی۔
نئے قواعد کے رول 20 کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مکمل پابندی ہے۔
کوئی بھی سرکاری ملازم نہ تو کسی سیاسی جماعت کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی معاونت کر سکتا ہے۔
ملازمین کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو گا لیکن وہ یہ ظاہر کرنے کے پابند نہیں ہوں گے کہ انہوں نے کسے ووٹ دیا ہے۔
نئے قواعد کے رول 18 کے تحت کوئی بھی ملازم پریس، سوشل میڈیا، یا کسی بھی عوامی پلیٹ فارم پر ایسی رائے یا حقائق بیان نہیں کرے گا جس سے حکومتی پالیسیوں پر منفی اثر پڑے۔
ملازمین پر فرقہ وارانہ یا نسلی تعصب پر مبنی مواد پھیلانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
دورانِ ملازمت یا سروس سے حاصل شدہ تجربات کی بنیاد پر ایسی کتابیں یا یادداشتیں لکھنے پر پابندی ہے جس میں خفیہ معلومات کا افشا شامل ہو۔
ضابطہ اخلاق کے مطابق، اگر کوئی سرکاری ملازم اپنی قانونی کارکردگی پر لگنے والے الزامات کے خلاف دفاع کرنا چاہے تو اسے ’کیڈر ایڈمنسٹریٹر‘ کو آگاہ کرنے کے بعد عدالت یا پریس سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہو گا۔
اگر وہ عدالتی کیس میں بری ہو جاتا ہے تو حکومت قانونی اخراجات کی تلافی کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان قواعد کا مقصد سرکاری ملازمین کو غیر ضروری سیاسی اور سماجی تنازعات سے دور رکھ کر ان کی دفتری ذمہ داریوں پر مرکوز کرنا ہے تاکہ سرکاری اداروں کی غیر جانبداری اور وقار کو برقرار رکھا جا سکے-

اپنا تبصرہ لکھیں