لاہور: (ویب ڈیسک )عاصمہ جہانگیر لیگل ایڈ سیل کا چھٹی عاصمہ جہانگیر کانفرنس (AJCONF) کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے، کانفرنس 7 اور 8 فروری 2026 کو لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں منعقد ہوگی۔ ’بنیادی حقوق کا زوال اور سرحد پار مزاحمت‘ کے عنوان سے ہونے والی یہ دو روزہ کانفرنس سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس کا مقصد انسانی حقوق سے متعلق اہم اور حساس مسائل پر آزاد، غیر سنسر شدہ اور بامعنی مکالمے کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں وفاقی وزراء، بار ایسوسی ایشنز کے رہنما، عالمی سطح کے نامور قانون دان، صحافی اور اقوام متحدہ کے خصوصی طریقۂ کار کے مینڈیٹ ہولڈرز شرکت کریں گے، جبکہ پاکستان اور جنوبی ایشیا بھر سے مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی خطاب کرے گی۔
کانفرنس میں تقریباً 18 سیشنز ہوں گے، جن میں 120 سے زائد مقررین شرکت کریں گے۔ ان میں ہائی کورٹس کے سینئر ججز، ممتاز قانونی ماہرین، بین الاقوامی جُیورسٹس، صحافی، ماہرینِ امور، میڈیا سے وابستہ افراد اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔ اس سال کی کانفرنس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ملک بھر کی مختلف بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز سے تعلق رکھنے والی 150 سے زائد پریکٹس کرنے والی خواتین وکلاء خصوصی طور پر لاہور آئیں گی۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس اس نازک موڑ کو تسلیم کرتی ہے جس پر جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان، اپنی سیاسی اور جمہوری سمت کے تعین کے عمل سے گزر رہا ہے۔ ایسے مشکل حالات میں کانفرنس کا مقصد اسی جرات، استقامت اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہے جو عاصمہ جہانگیر کی پوری پیشہ ورانہ زندگی کا نمایاں وصف رہا۔ کانفرنس کے اہم موضوعات میں آزادیٔ اظہار، صنفی امتیاز، کمزور اور محروم طبقات کے حقوق، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں، ماحولیاتی تبدیلی اور منصفانہ ٹرائل کا حق شامل ہیں۔
عاصمہ جہانگیر کے قائم کردہ ادارے اے جی ایچ ایس جو پاکستان کی پہلی خواتین پر مشتمل لا فرم ہے نے وقت کے ساتھ ایک نمایاں قانونی ادارے کی شکل اختیار کر لی ہے، جو خواتین، بچوں، قیدیوں، ستائے گئے مذہبی اقلیتی افراد، سزائے موت کے قیدیوں اور بے زمین کسانوں کو مفت قانونی معاونت فراہم کرتا ہے۔
’عوامی اسمبلی‘ کے نام سے پہچانی جانے والی عاصمہ جہانگیر کانفرنس گزشتہ برسوں میں پاکستان کی سب سے بڑی انسانی حقوق اور قانونی کانفرنس بن چکی ہے۔ اس سال کی کانفرنس میں پاکستان اور جنوبی ایشیا میں جمہوری حقوق کے زوال کی وجوہات کا جائزہ لینے اور ان کے حل تجویز کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
کانفرنس کے منتظمین نے میڈیا اور دیگر متعلقہ حلقوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس اہم اجلاس میں شرکت اور کوریج کے ذریعے برابری، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق قومی اور علاقائی مکالمے کو آگے بڑھائیں۔