لڑن ڈاندھ تے خینس لانڑاں بوٹاں تے!
ڈیرہ اسماعیل خان: علی امین گنڈا پور کے فوکل پرسنز کے ہمراہ پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کی تکمیل ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سجاد احمد صاحبزادہ کو لے ڈوبی۔
پی پی او ذوالفقار حمید کے جاری اعلامیہ کے مطابق ڈی پی او سجاد احمد صاحبزادہ کو ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ بھیج دیا گیا ان کی جگہ ڈی پی او صوابی ضیاء الدین احمد ڈی پی او ڈیرہ تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ ڈیرہ دریا خان پل کو کھلوانے کے لیے ڈی پی او ڈیرہ سجاد احمد صاحبزادہ کے پی ٹی آئی ورکروں کے ساتھ مذاکرات کے بعد بین الصوبائی شاہراہ تو کھول دی گئی تاہم موقع پر ورکروں نے ڈی پی او کو ہٹانے کا اعلان کیا جس کی آج تکمیل کر دی گئی۔
بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے، لیکن اس تبادلے کے گرد کئی سوالات گردش کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران ڈی پی او نے خود موقع پر جا کر مظاہرین سے مذاکرات کیے، پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی کا حکم نامہ سنایا اور واضح کیا کہ اگر اجتماع منتشر نہ ہوا تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ موقع پر پولیس وینز کی موجودگی اور ممکنہ گرفتاریوں کا عندیہ بھی دیا گیا۔
مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ دریا خان پل پر پی ٹی آئی ورکروں نے ڈی پی او کو ہٹوائے جانے کی باتیں کیں اور اس کے بعد ڈی پی او کو پوسٹنگ کی بجائے ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ بھیجا جانا محض ایک اتفاق نہیں ہو سکتا دوسری جانب ڈی پی او پشاور ہائیکورٹ کے حکم اور آئی جی پولیس ذوالفقار حمید کی عدالت عالیہ کو یقین دہانی کے احکامات پر عمل درآمد کر رہے تھے اب سوال یہ ہے کہ آئندہ قانون پر عمل داری اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کوئی افسر کیونکر کرے گا جبکہ قانون پر عمل داری سے اسے اپنے عہدے سے ہی ہاتھ دھونا پڑیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ رات خیبر پختونخوا ہائوس اسلام آباد میں علی امین گنڈا پور اور سہیل آفریدی گروپ میں تلخ کلامی ہوئی تھی اور کل رات ہی ڈی پی او ڈیرہ نے پشاور ہائیکورٹ کے صوبے بھر کے بند راستے کھولنے کے حکم پر عمل کرتے ہوئے پولیس افسران اور علی امین گنڈا پور کے فوکل پرسنز اور پرسنل سیکرٹری کے ہمراہ دریا خان پل پر پی ٹی آئی ورکروں سے مذاکرات کیے اور بین الصوبائی سڑک کھولنے کا اعلان کیا جس کے بعد آج انہیں قانون پر عمل داری کا صلہ عہدے سے ہٹا کر دے دیا گیا ہے۔ سرائیکی کی کہاوت ہے لڑن ڈاندھ تے خینس لانڑاں بوٹاں تے، ڈی پی او ڈیرہ سجاد احمد صاحبزادہ اسی کی زد میں آ گئے۔