ڈیرہ اسماعیل خان : گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کچے کے علاقہ جھوک اوبھیچڑ میں امن میلے میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ، میلہ گراؤنڈ پہنچنے پر گورنر فیصل کریم کنڈی کا پرتپاک استقبال کیا گیا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے میلہ کے انعقاد پر میلہ آرگنائزر پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر ملک فرحان افضل دھپ اور منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے میلے علاقے کا مثبت امیج بحال کرنے اور شہریوں کو سستی تفریح فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جشنِ دھپ میلہ میں ہزاروں کی تعداد میں عوام کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام دہشت گردی کو مسترد اور امن کو خوش آمدید کہہ چکے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے پی ٹی آئی کی سابقہ اور موجودہ پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ 13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی نے صوبے کو ایک بھی نیشنل اسٹیڈیم نہیں دیا، یہ لوگ صرف پرانے اسٹیڈیمز کے نام تبدیل کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت شدید تزلزل کا شکار ہے، انہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر تک نہیں مل رہا اور ان کی پالیسیاں سمجھ سے بالاتر ہیں۔ جو لوگ ملک میں انتشار چاہتے ہیں، وہ ڈائیلاگ کیا کریں گے؟گورنر نے فیلڈ مارشل کے حق میں بین الاقوامی مضامین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بیرونی دنیا پاکستان میں سرمایہ کاری اور بزنس کے لیے تیار ہے، تو دوسری طرف انتشاری ٹولہ فوج کا امیج خراب کرنے پر تلا ہوا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جو لوگ پاکستان کے آئین اور ریاست کو نہیں مانتے، ان کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں اکثر افغان شہریوں کا ملوث ہونا تشویشناک ہے۔ ہم سب کو مل کر سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینا ہوگا جو روزِ روشن کی طرح عیاں قربانیاں دے رہی ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے سزا و جزا کے عمل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک احتساب نہیں ہوگا، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “اگر فوج میں سزا و جزا کا سخت نظام ہوسکتا ہے تو باقی محکموں میں کیوں نہیں؟” انہوں نے نیب کی فعالیت کو کرپشن کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دیا۔ گورنر نے یاد دلایا کہ بی بی کی شہادت کے باوجود پیپلز پارٹی نے “پاکستان کھپے” کا نعرہ لگا کر ملک کو بچایا، جبکہ موجودہ انتشاری ٹولے نے امن و امان کی صورتحال کو گمبھیر بنا دیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں گورنر نے کہا کہ ایک صوبے کی حکومت کو دوسرے صوبے کی حکومت کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا اگر سندھ جاتے ہیں تو انہیں مکمل سیکیورٹی دی جائے گی وزیراعلی سندھ نے انہیں باقاعدہ دعوت دی ہے اور وہ ان کی بھرپور مہمان نوازی کریں گے۔