اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ شہر کے مضافاتی علاقے ترلائی میں ایک امام بارگاہ کے دروازے پر جمعے کی نماز کے وقت خودکش دھماکہ کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم 31 اموات ہوئی ہیں جبکہ پمز ہسپتال کے ترجمان نے بتایا ہے کہ 150 زخمی لائے گئے ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ کرنے والا افغان نہیں تھا لیکن وہ افغانستان کا سفر کر چکا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کا افسوسناک واقعہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں پیش آیا، یہ واقعہ بھی دیگر واقعات سے مماثلت رکھتا ہے۔
یہ واقعہ بھی انڈیا اور افغانستان کی جانب سے سپانسرڈ ہے، اس واقعے میں 31 لوگ شہید اور 100 سے زائد زخمی ہیں، دس سے بارہ منٹ میں ریسکو ٹیم یہاں پہنچی، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔
جس دہشتگرد نے دھماکہ کیا اس کی معلومات مل گئیں، دہشتگرد افغان نہیں تھا لیکن اس کے افغانستان سفر کی معلومات آ چکی ہیں۔ دہشت گردی کا ایک ہی پیٹرن ہے۔
یہ سافٹ ٹارگٹس پر حملہ آور ہوتے ہیں، حملے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن شہید ہوئے۔
یہ سب ہمارے بھائی ہیں، تمام قسم کی دہشت گردی کے لیے زیرو ٹارلنس ہے، وزیر داخلہ نے امام بارگاہ کا تفصیلی دورہ کیا اور معلومات لیں۔
یہاں کے منتظمین کا جذبہ دیکھ کر ہمارا مورال بلند ہوا
داڑھی رکھ کر دہشت گردی کی جائے یا بغیر داڑھی کے دہشت گردی ناقابل برداشت ہے، بھارت نے تین گنا انویسٹمنٹ بڑھائی ہے۔
ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو ڈالرز دیے جاتے ہیں، یہ اللہ کے نام پہ نہیں ڈالرز کے لیے لڑ رہے۔
ہم نے بارہا افغانستان کو کہا بھارت کی پراکسی نہ بنیں ، آج کے واقعے کو ہائی لیول سے مانیٹر کیا جا رہا ہے
آئی جی اسلام آباد کزن کی شہادت کے بعد بھی وردی میں کھڑے ہیں، بہت سی معلومات ابھی نہیں دی جا سکتیں، 72 گھنٹے میں وزارت داخلہ تفصیلی رپورٹ دے گی۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج میں متعدد زخمیوں کو کراہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ لاشیں بھی پڑی نظر آ رہی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کے گھر پر ریڈ کرنے کے دوران دو اہلکار جاں بحق ہو گئے جب کہ حملہ آور کے دو بھائیوں اور بہنوئی سمیت اس کی والدہ کو بھی اسلام آباد کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حملہ آور مسلسل اپنے بہنوئی کے ساتھ دھماکے سے قبل رابطے میں تھا۔