کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر مظاہرین کا دھاوا، آٹھ افراد جاں بحق

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اتوار کو ایران کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے دوران امریکی قونصل خانے کے باہر کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان محمد امین نے میڈیا کو بتایا، ’’ہم کم از کم آٹھ لاشیں کراچی کے سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کر چکے ہیں جبکہ قونصل خانے کے اس واقعے میں 20 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر زخمیوں کو گولیاں لگی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سینکڑوں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ نوجوانوں کا ایک ہجوم مرکزی دروازے پر چڑھ گیا اور قونصل خانے کی عمارت کے ڈرائیو وے تک رسائی حاصل کر لی، جہاں بعض کھڑکیوں کو توڑ دیا گیا۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان قونصل خانے کی مرکزی عمارت کی کھڑکیاں توڑ رہے تھے جبکہ احاطے کے اوپر امریکی پرچم لہرا رہا تھا اور کمپاؤنڈ کی دیواروں پر خاردار تار لگی ہوئی تھی۔
ایک نوجوان احتجاج کرتے ہوئے کہہ رہا تھا، ’’ہمیں متحد رہنا ہوگا، کوئی طاقت ہمیں نہیں روک سکتی۔‘‘
مظاہرین میں شامل ایک اور شخص نے ویڈیو بناتے ہوئے کہا، ’’ہم کراچی میں امریکی قونصل خانے کو آگ لگا رہے ہیں۔ ہم اپنے رہنما کے قتل کا بدلہ لے رہے ہیں۔‘‘
پاکستان کے مشرقی شہر لاہور اور شمالی علاقے اسکردو میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں، جبکہ دوپہر کے وقت اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے والے علاقے کے قریب بھی ایک مظاہرے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں