قریشی موڑ کے قریب جنوبی وزیرستان کے ٹھیکیدار یونین کے صدر نور حسن محسود کے گھر پر ہونے والی شادی کی تقریب میں خودکش دھماکہ جس میں امن کمیٹی کے کمانڈر وحید جگری سمیت چھ افراد شہید اور سات زخمی ہو گئے۔ ڈی پی او صاحبزادہ سجاد احمد کے مطابق دھماکہ شدید نوعیت کا تھا اور حملہ آور کا سر مل گیا ہے اور شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہے جس میں روایتی قبائلی رقص اتنڑ کے دوران زور دار دھماکہ ہوا جس کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یونین کے صدر نور حسن محسود کے بھائی سراج محسود کے بیٹے کی شادی کی تقریب جاری تھی اور آئے ہوئے امن کمیٹی کے کمانڈر وحید جگری اور اس کے ساتھیوں کو نشانہ بنایا گیا اور اس خود کشن دھماکے میں کمرے کی چھت زمین بوس ہو گئی ۔ اس خطے میں ہونے والے خود کش حملوں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی شادی کی تقریب میں خودکش دھماکہ کر کے کسی کمانڈر کو مارا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امن کمیٹی کے کمانڈر وحید جگری طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے اور انہوں نے آپریشن ضرب عضب کے بعد اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت دہشت گردی سے کنارہ کشی اختیار کر چکے تھےاور 2016 کے بعد تقریبا پانچ سو ساتھیوں کے ہمراہ امن کمیٹی ملیشیا تشکیل دے چکے تھےاور کالعدم ٹی ٹی پی گنڈا پور گروپ کے مخالف سمجھے جاتے تھے اور اسی وجہ سے شادی کی تقریب کے دوران انہیں آسان نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ڈرائع کے مطابق خودکش حملہ آور سترہ سالہ افغان مہاجر لڑکا تھا جو مدرسے کا طالب عالم رہا ہے۔ تاہم یہ دو سال قبل ڈیرہ اسماعیل خان کے ٹانک اڈا پر ایلیٹ پولیس کے کانوائے پر ہونے والے حملہ کی مانند ہے جس میں نشانہ پولیس اہلکار تھے تاہم عام شہری اور طلباء اس دھماکہ میں جاں بحق ہوئے اور کسی بھی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔ گزشتہ رات ہونے والے دھماکہ میں جاں بحق ہونے والوں میں ڈسٹرکٹ بار کے ممبر عبدالمجید لاگری بھی شامل تھے۔ رسیکیو کی ٹیموں نے جاں بحق افراد کی نعشیں اور اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں
وحید جگری، ایڈووکیٹ عبدالمجید لاگری، ٹھیکدار رحمان اللہ ، شہزاد عبدالائی، عنایت اللہ اور چھوٹا وحید شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں وارث خان، نور عالم محسود ،توحید اللہ، رحمان خان، سہیل خان برکی اور نذیر اللہ شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور زخمیوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس واقعہ کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے حوالے سے نئی لہر اٹھنے کا امکان ہے اور اس ایریا میں سیکیورٹی کے حوالے سے مزید سخت کاروائیاں دیکھنے میں آ سکتی ہے تاہم پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کے لیے یکسوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابیاں سمیٹ رہیں ہیں اسی طرح گزشتہ دنوں رات کے وقت ڈیرہ ژوب روڈ پر واقع کھتی چیک پوسٹ پر حملہ بھی ناکام بنایا گیا جہاں اس سے پہلے ہونے والے ایک درجن سے زائد حملوں میں جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا تھا وہاں اب دہشتگردوں کے حملے پولیس فورس ناکام بنا رہی ہے۔