ڈیجیٹل میڈیا الائنس فار پاکستان (DMAP) آزاد صحافت کے معتبر ڈیجیٹل پلیٹ فارم لوک سجاگ کی ویب سائٹ کو بلاک کیے جانے کے اقدام کو ریاستی سنسرشپ، اظہارِ رائے پر براہِ راست حملہ اور آئینی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق لوک سجاگ کی ویب سائٹ پاکستان میں عام براؤزرز پر مکمل طور پر بند ہے اور صرف وی پی این کے ذریعے کھل رہی ہے، جبکہ بیرونِ ملک یہ بدستور قابلِ رسائی ہے۔ ڈیجیٹل اور سائبر سیکیورٹی ماہرین اس حقیقت پر متفق ہیں کہ اس نوعیت کی بندش صرف اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے جب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کسی ویب سائٹ کو اپنی فائر وال کے ذریعے بلاک کرتی ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا الائنس فار پاکستان کے صدر سبوخ سید نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انتہائی افسوسناک اور تشویشناک امر یہ ہے کہ پی ٹی اے نے لوک سجاگ کو نہ کوئی شوکاز نوٹس دیا، نہ کسی قسم کی قانونی وضاحت فراہم کی، اور نہ ہی کسی ضابطے کے تحت کارروائی سے آگاہ کیا۔ یہ طرزِ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا کو غیر اعلانیہ، غیر شفاف اور من مانے طریقوں سے خاموش کرانے کی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا الائنس فار پاکستان اس اقدام کو محض ایک ویب سائٹ کی بندش نہیں بلکہ آزاد صحافت کو خوف زدہ کرنے، اختلافی آوازوں کو دبانے اور عوام کو حقائق تک رسائی سے محروم رکھنے کی منظم کوشش سمجھتا ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جو جمہوری معاشروں کے شایانِ شان نہیں بلکہ آمرانہ نظاموں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
لوک سجاگ ان چند ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں شامل ہے جو مسلسل پسے ہوئے طبقات، نظرانداز شدہ خطوں، اقلیتوں، مزدوروں، خواتین اور طاقت کے مراکز سے باہر موجود آوازوں کو جگہ دیتا رہا ہے۔ ایسے پلیٹ فارم کو خاموش کرنا دراصل ان تمام طبقات کو خاموش کرنے کے مترادف ہے جن کی آواز پہلے ہی کمزور ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا الائنس فار پاکستان واضح اور دو ٹوک مطالبہ کرتا ہے کہ:
1. لوک سجاگ کی ویب سائٹ فوری اور بلا مشروط بحال کی جائے۔
2. پی ٹی اے اپنے اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال پر عوام کے سامنے جوابدہ ہو اور اس اقدام کی مکمل قانونی بنیاد واضح کرے۔
3. ڈیجیٹل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے تمام خفیہ اور غیر اعلانیہ طریقۂ کار کا خاتمہ کیا جائے۔
4. آزادیٔ اظہار اور معلومات تک رسائی کو سیکیورٹی کے نام پر محدود یا کچلنے کی روش فوری طور پر ترک کی جائے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا الائنس فار پاکستان اس معاملے کو محض ایک بیان تک محدود نہیں رکھے گا، بلکہ صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں، قانونی فورمز اور بین الاقوامی ڈیجیٹل رائٹس نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر اس ریاستی سنسرشپ کے خلاف مؤثر اور منظم آواز بلند کرے گا۔
آزاد صحافت کوئی جرم نہیں بلکہ آئینی حق ہے، اور اس حق پر کوئی خاموش سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔