ڈیرہ اسماعیل خان میں پرندوں کے لیے پہلا چڑیا مینار

ڈیرہ اسماعیل خان میں پرندوں کے لیے ‘چڑیا مینار’ تعمیر کیا گیا ہے تاکہ وہ وہاں پناہ لے سکیں اور گھونسلے بنا سکیں۔ اس منفرد ڈھانچے کی تعمیر میں مٹی اور لکڑی کے استعمال کا قدیم طریقہ اپنایا گیا ہے۔
یہ ‘چڑیا مینار’ محکمہ جنگلات کی طرف سے شہر کے مرکز میں قریشی مور کے قریب بنایا گیا ہے۔ رکن قومی اسمبلی فیصل امین گنڈاپورکے مطابق اس مینار کی تعمیر کا آئیڈیا انھوں نے ایران میں کبوتروں کے ٹاورز سے حاصل کیا، جو صفوی دور میں تعمیر کیے گئے تھے۔
ایران میں یہ ٹاورز کبوتروں کے فضلے جمع کرنے کے لیے بنائے جاتے تھے، جو کھیتوں میں قدرتی کھاد کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔
ضلع فاریسٹ آفیسر امین الاسلام کے مطابق، اس ٹاور کی اونچائی 32 فٹ ہے اور یہ مقامی پرندوں جیسے چڑیاں، طوطے، کبوتر اور فاختائیں کے لیے رہائش فراہم کرے گا۔ پرندے یہاں کھانے کے لیے گندم، باجرے سے متوجہ کیے جائیں گے۔
‘اگر یہ ٹاور کامیاب رہا تو مختلف شہروں میں دو مزید ٹاورز تعمیر کیے جائیں گے تاکہ جو پرندے شہروں میں درختوں کی کمی کے باعث ہجرت کررہے ہیں انہیں مناسب رہائش اور خوراک فراہم کرتے ہوئے روکا جاسکے۔
ایران میں ایسے ٹاورز کو ’کبوتر خانہ‘ کہا جاتا ہے۔ معلوم نہیں یہ کب تعمیر ہوئے، لیکن یہ تصدیق ہوتی ہے کہ یہ کم از کم پچھلے 800 سال سے موجود ہیں۔ مشہور مراکشی مسافر ابن بطوطہ نے پہلی بار ان کبوتروں کے ٹاورز کا ذکر کیا تھا۔تاریخ دانوں کے مطابق تیمور لنگ نے اپنے دارالحکومت بخارا میں ایسے ڈھانچے تعمیر کرنے کے احکامات دیے تھے۔
فرانسیسی مصنف شارڈن نے 16ویں صدی میں ایران کے سفر کیا اور واپسی پر سفر نامے میں ایران کے’کبوتر خانے’ کا تذکرہ کیا۔ اصفہان، وسطی ایران میں اپنے کبوتروں کے ٹاورز کی بھرپور تاریخی ورثہ کے لیے مشہور ہے۔ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر امین الاسلام کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں یہ ٹیسٹ کے طور پر بنایا جا رہا ہے اور اگر پرندوں نے اس کا رخ کیا اور یہ کامیاب ہوا تو ایسے مینار پورے صوبے میں بناجے جائیں گے۔ ایم این اے فیصل امین گنڈا پور جن کا یہ آئیڈیا ہے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ڈیرہ اسماعیل خان خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے اور فاریسٹ کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت اور بھرپور توجہ کی متقاضی ہے جس کے لیے یہ چڑیا مینار بنایا جا رہا ہے اس کے بعد ٹائون ہال میوزیم میں بھی ایک چڑیا مینار تعمیر کیے جانے کا منصوبہ ہے انہوں نے کہا کہ اس مینار کی تعمیر میں مٹی اور لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے جو کہ باآسانی دستیاب ہیں اور اس پر اتنی لاگت بھی نہیں آئی ہے مقصد صرف پرندوں کو مسکن فراہم کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں