خیبر پختونخوا میں سکولوں میں سمسٹر سسٹم کے نتائج آنا شروع ہو گئے۔ سیکرٹری ڈیرہ بورڈ ڈاکٹر قیوم نواز نے سمسٹر سسٹم کا اختتام جو 31 مئی کو ہونا ہے اس سے پہلے ہی بورڈ میں 9ویں کلاس کی انرولمنٹ کی نارمل فیس (800 روپے) کی تاریخ 25 مئی مقرر کر دی ہے جبکہ سمسٹر سسٹم کے دوران ہی لیٹ فیس ( 1050) کی وصولی بھی اسی اعلامیہ کا حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محکمہ تعلیم کے اعلامیہ کے مطابق 31 مئی کو سرکاری سکولوں کے نتائج کا اعلان کیا جانا مقرر ہے یعنی نتائج تو 31 مئی کو جاری ہوں گے لیکن ڈیرہ بورڈ میں داخلے 25 مئی کو کرنے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیکرٹری بورڈ کے نزدیک ان سکولوں کے سربراہان کو الہام ہو گا کہ کونسے طلبہ 8ویں کے امتحان میں پاس ہو کر 9ویں کلاس میں جائیں گے تاکہ نتائج سے قبل ہی ان کی فیس جمع کرا کے انرولمنٹ کر دی جائے۔ یاد رہے جیسا کہ عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ سرکاری سکولوں میں غریب والدین کے بچے پڑھتے ہیں تو غریبوں پر مزید بوجھ لادنے کی ذمہ داری سیکرٹری بورڈ نے اٹھا لی ہے کیا؟
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ سمسٹر سسٹم کا اطلاق پرائیویٹ سکولوں پر بھی کیا جانا ضروری ہے یا پھر اس کا مقصد بورڈز کی ملی بھگت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ساتھ ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ انرولمنٹ سمیت مالی مفادات سمیٹے جا سکیں بظاہر اس اعلامیہ کا مقصد تو یہی نظر آتا ہے بورڈ کو چاہیئے تھا ستمبر یا اکتوبر میں بورڈ میں 9ویں کلاس کی انرولمنٹ کی جاتی تاکہ سرکاری سکولوں کے طلبہ کے ساتھ غیر امتیازی سلوک نہ ہوتا۔