ڈیرہ اسماعیل خان: اسسٹنٹ کمشنر پہاڑ پور ڈاکٹر حامد صدیق ان دنوں سوشل میڈیا پر چھائےہوئے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ ماہ رمضان میں گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ان کی مسلسل کاروائیاں ہیں اور اب تک تحصیل پہاڑ پور کے ایک درجن سے زائد گراں فروش جیل یاترا اور منافع خوروں سے 85 ہزار سے زائد جرمانوں کی وصولی کر چکے ہیں۔
رمضان المبارک کی آمد سے قبل ڈاکٹر حامد نے گراں فروشی، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کسی بھی رعایت کی نفی کرتے ہوئے سختی سے سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں لیکن اس کے باجود رمضان کے پہلے ہی ہفتے میں سترہ گراں فروشوں کو جیل یاترا پر بھیج چکے ہیں اور انہوں نے عید تک جیل بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر پہاڑ پور نے مصنوعی مہنگائی کی روک تھام کے لیے انجمن تاجران کے صدور اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے چینی، دالوں اور دیگر اشیاء کے گوداموں کی کنزیومر پرٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رجسٹریشن بارے اہم فیصلہ کیا مگر چھ دن مہلت دینے کے بعد بھی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کنزیومر پرٹیکشن کے ہمراہ غیر رجسٹرڈ چینی، دالوں اور دیگر اشیائے خوردنی کے گوداموں پر چھاپے مار کر انہیں سیل کر دیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر حامد نے دامان ٹی وی کو بتایا کہ اب تک 76000 کلوگرام غیر قانونی ذخیرہ کی گئی چینی ضبط کر کے ڈویژنل فوڈ کنٹرول آفس کی تحویل میں دی جا چکی ہے جسے جلد ہی قانون کے مطابق عوام میں نیلامی کے لیے پیش کر دیا جائے گا جبکہ دالوں اور دیگر ضبط شدہ اشیاء کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کے لیے تحصیل پہاڑ پور اور پنیالہ کے دکانداروں اور ریڑھی بانوں کو نرخ نامے آویزاں کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور اس کے لیے بارہ پرائس مانیٹرنگ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ان کی کاروائیوں کے خلاف تحصیل پہاڑ پور کے وہی تاجر برادری جو رمضان سے پہلے گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف ان کی ہمنوا تھی اب وہی تاجر ان کے خلاف سڑکوں پر نعرے لگاتے اور بازار اور مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں تاہم اس بار پہاڑ پور کے عام لوگ سوشل میڈیا اور گلیوں، چوکوں اور بازاروں میں تاجران کے خلاف ایکا کر چکے ہیں اور اسسٹنٹ کمشنر پہاڑ پور ڈاکٹر حامد صدیق کے حق میں ریلیاں تک نکالی جا رہی ہیں جس سے کم سے کم یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ عوام کی حقیقی معنوں میں خدمت کرنے والے افسران کو فراموش نہیں کیا جاتا اب دیکھنا یہ ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر پہاڑ پور کی گراں فروشوں اور منافع خوروں کے خلاف پچھلے ایک ہفتے سے جاری کاروائیاں جاری رہتی ہیں یا ان کو بریک لگتی ہے تاہم اصل ٹاکرا پہاڑ پور کے عوام اور تاجران کے درمیان پڑ چکا ہے۔