ڈیرہ اسماعیل خان:بین الصوبائی چشمہ رائٹ بینک کینال وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے مابین لڑائی کے باعث موت کی دہلیز تک پہنچ گئی، صوبائی حکومت کی طرف سے واپڈا کو فنڈ فراہم نہ کرنے کی بدولت پچھلے 25 سالوں سے نہر کی مرمت و بحالی کا کام التوا میں پڑا ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی منتخب قیادت نے مصلحت کے تحت خاموش تماشائی بنکر شہر کے زرعی اقتصادی ڈھانچے کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا ہے ،گزشتہ شب ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کچھی کاٹھ گڑھ کے قریب بین الصوبائی سی آر بی سی کینال پھر ٹوٹ گئی ، نہر میں 120 فٹ چوڑے شگاف سے نکلنے والے پانی کے بڑے ریلے نے ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی گندم کی فصلوں کو تباہ اور درجنوں دیہاتوں کو لپیٹ میں لے لیا ، دیکھتے ہی دیکھتے کئی بڑی انسانی آبادیاں زیر آب آ گئیں اور رات کی تاریکی میں سینکڑوں خاندان اپنے بچوں ، خواتین اور مال و اسباب کو بچانے میں مصروف رہے ، پچھلے 16 گھنٹوں کے دوران خیبر پختون خوا کے محکمہ آبپاشی کی طرف سے مقدور بھر کوشش کے باوجود نہر کی مرمت و بحالی کا کام ممکن نہ ہو سکا ، ذرائع کے مطابق محکمہ آبپاشی کے پاس نہر کی مرمت کے لیے وسائل ہیں نہ ایسی جدید مشینری میسر ہے جس کے ذریعے ہنگامی صورت حال سے نمٹا جا سکے ، چنانچہ متاثرین مدد کے لیے وفاقی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ اگرچہ ضلعی انتظامیہ چشمہ بیراج سے پانی کی سپلائی بند کرانے کے بعد نہر میں موجود پانی کو بڑی ڈرینز کی طرف موڑ کر دریا سندھ میں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ،ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے سرگرمیوں کے ذریعے 50خاندانوں کو ریسکیو کیا ہے، اب بھی متاثرین کی بڑی تعداد بے یار مدد گار پڑی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ نہر کی تعمیر کے بعد وفاقی حکومت نے سی آر بی سی کینال کے کمانڈ ایریا کی آبپاشی کا پورا اسٹریکچر صوبائی حکومت کے محکمہ آبپاشی کے سپرد کر دیا جبکہ مین کینال میں پانی کی سپلائی کو ریگولیٹ کرنے اور مرمت و بحالی کی زمہ داری بدستور وفاق کی زمہ داری ہے لیکن قاعدہ کے مطابق بین الصوبائی نہر کی مرمت و بحالی کے لئے فنڈ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں نے فراہم کرنا ہوتے ہیں۔ ہرچند کہ پنجاب گورنمنٹ نہر کی مرمت و بحالی کے لئے ہر سال واپڈا کو اپنے حصہ کے فنڈ فراہم کر دیتی ہے لیکن بدقسمتی سے خیبر پختونخوا حکومت نے پچھلے 25 سالوں سے نہر کی مرمت و بحالی کے لئے درکار فنڈ کی فراہمی روک رکھی ہے ۔ 2010 کے سیلاب میں سی آر بی سی کینال متعدد مقامات سے ٹوٹ گئی تھی ،جمعہ شریف کے قریب نہر کا سب سے بڑا سائفن(اسٹریکچر) ٹوٹ گیا تھا ، جسے ازسرنو تعمیر کرنے کی بجائے عارضی مرمت سے بحال کیا گیا ۔ 2022 کے سیلاب نے ایک بار پھر سی آر بی سی کینال کو کئی مقامات پر نقصان پہنچایا ،تب مولانا فضل الرحمن کی درخواست پر نہر کی مرمت و بحالی کے لیے وفاقی حکومت نے بھاری فنڈز فراہم کیے لیکن مقامی سیاستدانوں کی روایتی رقابتوں اور مہیب دہشتگردی کے باعث تعمیراتی کام میں رکاوٹیں پڑنے سے نہر کی بحالی کا کام 5 سالوں تک التوا میں پڑا رہا ۔ اب پھر سی آر بی سی کینال متعدد مقامات سے ٹوٹ پھوٹ کی زد میں ہے لیکن عظیم قومی اثاثہ کو سنبھالنے والا کوئی نظر نہیں آتا