رمضان پیکج میں بے ضابطگیاں، وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کی ساکھ متاثر

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مستحق افراد کی مالہ امداد کے لیے حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے رمضان پیکج کا مقصد معاشرے کے غریب اور ضرورت مند طبقے کو سہارا دینا تھا تاہم کچھ ورکر کمیٹیوں نے سابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کے اس فلاحی منصوبے کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا ہے جس سے نہ صرف مستحق افراد کا حق متاثر ہوا بلکہ حکومت اور سابق وزیر اعلی علی امین کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض سیاسی ورکرز کمیٹیوں کے ممبرز کو علی امین گنڈا پور کی ہدایات پر رمضان پیکج کی لسٹیں فراہم کی گئیں جس پر ان افراد نے امانت داری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے مبینہ طور پر اپنے ہی خاندان کے افراد، قریبی رشتہ داروں اور جاننے والوں کے نام بڑی تعداد میں فہرستوں میں شامل کر دیئے۔ذرائع کے مطابق ایک ہی خاندان کے چھ، چھ افراد کو رمضان پیکج میں شامل کیا گیا ہے اور انہیں مستحق ظاہر کر کے آگے علی امین خان کو بھیج دیا گیا۔
نتیجتاً ان فہرستوں کی بنیاد پر کئی ایسے لوگوں کو رمضان پیکج کا فائدہ مل گیا جو حقیقت میں مستحق نہیں تھے، جبکہ بہت سے مستحق اور ضرورت مند افراد اس سہولت سے محروم رہ گئے۔ اس عمل کو عوامی حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ چند افراد کی اس غیر ذمہ دارانہ روش نے عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں اور اس کا منفی اثر سابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کی ساکھ پر بھی پڑا ہے حالانکہ فلاحی منصوبوں کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہوتا ہے، مگر جب اس طرح کی بے ضابطگیاں سامنے آتی ہیں تو پورا نظام بدنام ہوتا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، غیر مستحق افراد کے نام فہرستوں سے نکالے جائیں اور جن لوگوں نے ذاتی فائدے کے لیے فہرستوں میں ردوبدل کیا ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے فلاحی منصوبوں کے لیے ایک شفاف اور منظم نظام بنایا جائے تاکہ امداد حقیقی مستحق افراد تک پہنچ سکے اور کسی کو بھی امانت میں خیانت کا موقع نہ ملے

اپنا تبصرہ لکھیں