ڈیرہ پولیس افسر نے سابق DPO کو 1 کروڑ مالیت کی NCP گاڑی تحفے میں دے دی

ڈیرہ اسماعیل خان( حماد خلیل) ڈسٹرکٹ پولیس کے روزنامچہ مد نمبر 27 جس کا اندراج 26 جنوری کو کیا گیا ایک اہم اور سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس نے پولیس سسٹم پر کئی بڑے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
ماہانہ پولیس ریکارڈ کے مطابق 26 جنوری 2026 کو تھانہ ڈیرہ ٹاؤن کی حدود میں پولیس چیک پوسٹ کھتی، ڈیرہ اسماعیل خان پر ایک مشکوک گاڑی نمبر بی ایف 9130، کلر بلیک پش پجیرو، جس کا انجن 35 زیڈ
VE1495/cc
اور چیسز نمبر جے 21 او ای 0035499 کو روک کر چیک کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش میں گاڑی کی رجسٹریشن جعلی نکلی اور معلوم ہوا کہ گاڑی نان کسٹم پیڈ ہے جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے محمد جمشید ولد شیر زمان اور محسن خان ولد حسن نامی دو افراد سمیت گاڑی کو تحویل میں لے کر تھانہ ڈیرہ ٹاؤن منتقل کیا جہاں یہ کار چند دن تک تھانے میں کھڑی رہی۔
لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے پورے معاملے کو گول مال میں تبدیل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ ضبط شدہ نان کسٹم گاڑی قانونی کارروائی کے بجائے سابق ڈی پی او ڈیرہ کو بطور “تحفہ” دے دی گئی اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ایک افسر اور محرر تھانہ ڈیرہ ٹاون کے درمیان روزنامچہ کی تبدیلی کے حوالے سے تلخ کلامی بھی ہوئی تاہم قانون کے مطابق گاڑی کو کسٹم حکام کے حوالے کیا گیا اور نہ ہی یہ معاملہ ڈی آئی جی ڈیرہ اشفاق انور کے نوٹس میں لایا گیا۔اب سوال یہ ہے کہ سرکاری تحویل میں لی گئی ایک این سی پی گاڑی کو ڈی ایس پی نے کس قانون کے تحت سابق ڈی پی او کو تحفہ میں دے دیا۔ مبینہ طور پر تیس لاکھ روپے کی اس نان کسٹم پیڈ گاڑی کی کسٹم کلیئرنس کے بعد مالیت تقریبا ایک کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے جو سابق ڈی پی او کو تحفے کے طور پر دی گئی ہے جس کی ڈی آئی جی اشفاق انور کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔
خیبر پختونخوا پولیس میں یہ معاملہ اختیارات کے غلط استعمال اور قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ایک مثال ہے اس حوالے سے آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید اور ڈی آئی جی ڈیرہ اشفاق انور سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس پورے معاملے کی اعلی سطحی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ معاملہ اب صرف ایک گاڑی تک محدود نہیں رہا بلکہ پولیس نظام میں مبینہ بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال جیسے سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں