ڈیرہ اسماعیل خان: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کی مجموعی سیکیورٹی اور خارجہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر کے پی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مولانا لطف الرحمن، تحصیل امیر ڈیرہ کفیل نظامی، سابق ایم پی اے ٹانک محموداحمد بیٹنی اور دیگر رہنما و کارکنان بھی موجود تھے، ان کا کہنا تھا کہ ملک میں حکومتی رٹ کہیں بھی نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور ٹانک سمیت جنوبی اضلاع بدامنی کی لپیٹ میں ہیں اور امن و امان کی صورتحال روز بروز خراب ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق نہ صرف اندرونی حالات غیر یقینی ہیں بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، جو قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے انکشاف کیا کہ وہ پہلے ہی تجویز دے چکے ہیں کہ موجودہ حالات کے پیش نظر پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ حساس معاملات پر کھل کر مشاورت کی جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کیے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی قومی اور بین الاقوامی پالیسی واضح کرنا ہوگی، کیونکہ اس وقت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں کشیدگی اور جنگی فضا قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی دنیا انتشار کا شکار ہے، جس کی مثال عراق اور لیبیا کے حالات سے دی جا سکتی ہے، جبکہ اب ایران کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مسلم ممالک کو متحد ہو کر ایک مضبوط اسلامی بلاک کی تشکیل کی طرف جانا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری باہمی تقسیم دنیا پر واضح ہو چکی ہے، جس سے ہمارا مؤقف کمزور پڑ رہا ہے۔
انہوں نے ثالثی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مختلف سطحوں پر ثالثی کی باتیں ہو رہی ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ مؤثر ثالثی کر سکے۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس ثالثی کے سوا کوئی بڑا راستہ بھی موجود نہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس کوئی واضح فارن پالیسی موجود نہیں، بلکہ فیصلے دیگر مراکز سے کیے جا رہے ہیں، جس سے ملک کا عالمی تشخص متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر قومی سطح پر سنجیدہ مشاورت کا آغاز کیا جائے اور ایک متفقہ پالیسی ترتیب دی جائے تاکہ ملک کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز سے نکالا جا سکے۔