ڈیجیٹل میڈیا کلب کی نئی کابینہ تشکیل، عادل وقار صدر اور عمران راجپوت سیکرٹری جنرل منتخب، کلب میں 5 نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی شمولیت، بنگلہ دیش انتخابات کی پروفیشنل کوریج پر ممبر اراکین عادل وقار اور حماد خلیل کو سراہا گیا۔
ڈیجیٹل میڈیا کلب ڈیرہ کا اجلاس DMC آفس واقع جاگو ڈیرہ نزد ٹی ایم اے پلازہ منعقد کیا گیا۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ ڈی ایم سی کے سیکرٹری جنرل عمران راجپوت نے اجلاس کا ایجنڈا پیش کیا اور سکروٹنی کمیٹی کی منظوری کے بعد نئے ممبر پلیٹ فارمز کی باقاعدہ شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا۔ اجلاس میں بانی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سمیت نئے ممبر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی جس کے بعد ڈیجیٹل میڈیا کلب کے ممبر اداروں کی تعداد بڑھ کر گیارہ ہو گئی ہے۔
اراکین نے ڈی ایم سی کے الیکشن 2025-2026 کی ووٹنگ میں حصہ لیا جس کے نتیجہ میں نئی کابینہ کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں عادل وقار صدر، عمران راجپوت سیکرٹری جنرل، محمد جاوید نائب صدر، اسامہ یوسفزئی جوائنٹ سیکرٹری، تیمور اقبال پریس سیکرٹری اور وحید پتافی فائنانس سیکرٹری منتخب کیے گئے۔ شرکاء نے نومنتخب کابینہ کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
نئی کابینہ نے سیکرٹری جنرل کی جانب سے پیش کردہ قرار داد منظور کرتے ہوئے باہمی اتحاد و اتفاق اور صحافتی اقدار پر کاربند رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
قرارداد:
1۔ ڈیجیٹل میڈیا کلب، تمام اراکین آزادی رائے اور جمہوری آوازوں کو تقویت دینے کے لیے ٹھوس اقدامات اور پالیسی پر عمل درآمد کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
2۔ ڈیجیٹل میڈیا کلب کے آفس میں کسی بھی سیاسی جماعت، منتخب ممبران پارلیمنٹ، مقامی سیاسی قیادت، سول سوسائٹی سمیت عام شہریوں کو پریس کانفرنسز کی اجازت کی بالاتفاق منظوری دی جاتی ہے۔
3۔ کابینہ، بنگلہ دیش الیکشن کی کوریج کے لیے پاکستان سے جانے والے وفد میں دامان ٹی وی کے حماد خلیل اور جاگو ڈیرہ کے عادل وقار کی پیشہ ورانہ کوریج کو سراہتے ہوئے اسے ڈیرہ کا اعزاز سمجھتی ہے اور ممبران کے خلاف بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے گودی میڈیا کی ناکام چال قرار دیتی ہے۔
4۔ خیبر پختونخوا کی ایڈ پالیسی کے تحت متعلقہ اداروں اور آر آئی او سے رابطہ کاری اور متعلقہ اقدامات کی منظوری دی جاتی ہے۔
5۔ ڈیجیٹل میڈیا کلب سرگرمیوں، اداروں سے باہمی رابطوں اور سہولیات سے متعلق ٹھوس ضابطہ اخلاق مرتب کر کے اقدامات کی منظوری دیتی ہے۔
اجلاس کا اختتام امریکہ اور ایران میں پاکستان کی ایماندارانہ صلح کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے دعائیہ کلمات سے کیا گیا۔