ڈیجیٹل اشتہارات کی پالیسی: عوامی پیسہ، عوامی مفاد کے میڈیا سے مشاورت پر زور

اسلام آباد، 24 ستمبر 2026:میڈیا، سول سوسائٹی، حکومت اور پالیسی سے وابستہ ماہرین نے ڈیجیٹل میڈیا کے لیے سرکاری اشتہارات کی پالیسی کو زیادہ شفاف، منصفانہ اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ بنانے کے لیے آزاد اور عوامی مفاد کی صحافت کرنے والے مقامی میڈیا اداروں سے بامعنی مشاورت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد میڈیا کی پائیداری کے لیے مالی وسائل ضروری ہیں، تاہم تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی ہوئی میڈیا معیشت میں سرکاری اشتہارات کی تقسیم کے لیے ایسا واضح اور مساوی نظام درکار ہے جو صحافتی معیار، عوامی مفاد اور میڈیا کے پیشہ ورانہ کردار کو بھی مدنظر رکھے۔
یہ بات انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ (IRADA) اور SZABIST یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام، International Media Support (IMS) کے تعاون سے منعقدہ ایک اسٹیک ہولڈر ڈائیلاگ میں سامنے آئی۔ تقریب میں IRADA کی نئی تحقیق “Public Money, Public Interest – Aligning Pakistan’s Digital Media Advertising Policies with Professional Media Mandates” پیش کی گئی۔
IRADA کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد آفتاب عالم نے کہا کہ آزاد میڈیا کے لیے مالی پائیداری ناگزیر ہے، تاہم ڈیجیٹل دور میں عوامی مفاد کی صحافت کرنے والے آزاد میڈیا پلیٹ فارمز کو پائیداری کے پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں ضروری ہے کہ سرکاری اشتہارات کی تقسیم کے لیے مساوی اور شفاف پالیسی وضع کی جائے، جس کا ایک واضح مقصد ملک میں عوامی مفاد کی صحافت کو فروغ دینا ہو۔
تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر تحریم عظیم نے طریقۂ کار اور اہم نتائج بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس تحقیق میں وفاقی اور صوبائی سطح پر نافذ ڈیجیٹل میڈیا اشتہارات کی پالیسیوں کا جائزہrelevance,
purpose اور representation کے تناظر میں لیا گیا ہے۔ تحقیق میں مختلف پالیسیوں کا تقابلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں عوامی مفاد کی صحافت کرنے والے آزاد میڈیا اداروں کے ان پالیسیوں سے عملی تجربات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف اور میڈیا ڈویلپمنٹ ماہر عدنان رحمت نے کہا کہ رپورٹ کا مقصد ایسے منصفانہ اور شفاف اصول تجویز کرنا ہے جو پاکستان میں آزاد ڈیجیٹل صحافت کے لیے بہتر ماحول پیدا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی اشتہاری پالیسیوں میں اب ڈیجیٹل میڈیا کو تسلیم کیا ہے، تاہم موجودہ قواعد میں عوامی مفاد کی صحافت اور انفلوئنسرز، ولاگرز، مارکیٹنگ ایجنسیوں یا تفریحی مواد کے درمیان واضح امتیاز موجود نہیں۔
عدنان رحمت کے مطابق اس صورتحال کے باعث وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جو حکمرانی، انسانی حقوق، پسماندہ طبقات، علاقائی مسائل، عوامی خدمات، تنازعات اور احتساب جیسے موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں، انہیں مالی اور تجارتی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
سرکاری اشتہارات میں شفافیت کی ضرورت:
پینل ڈسکشن میں ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم دی رپوٹرز کی بانی اور میڈیا انٹرپرینیور سعدیہ مظہر نے سرکاری اشتہارات پر ہونے والے اخراجات سے متعلق عوام کو معلومات تک رسائی دینے اور اس عمل میں شفافیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
صحافی اور ماہر تعلیم زیبا ہاشمی نے کہا کہ اشتہاری پالیسیوں میں صحافیوں اور تخلیق کاروں کی معاونت کے ایسے طریقۂ کار کو جگہ ملنی چاہیے جو عوام کو اہم شہری اور سماجی معاملات سے باخبر رکھنے والے صحافتی کام کو تقویت دے۔
وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل محمد شہزاد نے بتایا کہ اب تک 259 ڈیجیٹل پبلشرز اور 55 اشتہاری ایجنسیاں وزارت کے ساتھ رجسٹرڈ ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق پالیسی میں دو مرتبہ نظرثانی کی جا چکی ہے اور مستقبل میں بھی اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق وزارت ایک ایسے خودکار، مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کی تیاری پر بھی کام کر رہی ہے جو ڈیجیٹل میڈیا پبلشرز کے سوشل میڈیا اینالیٹکس کا جائزہ لے سکے۔
پائیداری کے لیے متبادل آمدنی پر بھی زور:
اختتامی گفتگو میں سابق وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ آزاد ڈیجیٹل میڈیا کو صرف سرکاری فنڈنگ کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے آمدنی کے ذرائع متنوع بنانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں کو پالیسی سازوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ اور مکالمہ بھی جاری رکھنا چاہیے تاکہ پالیسی سازی میں عوامی مفاد کی صحافت کے تقاضوں کو شامل کیا جا سکے۔
اس تناظر میں ماہرین کے سامنے بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ سرکاری اشتہارات کس میڈیا پلیٹ فارم کو ملنے چاہئیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ عوامی پیسے سے ہونے والی اشتہاری سرمایہ کاری کے لیے شفاف معیار کیا ہوں، عوامی مفاد کی صحافت کی شناخت کیسے کی جائے، اور آزاد میڈیا کی مالی پائیداری کو ادارتی آزادی کے ساتھ کیسے جوڑا جائے۔
رپورٹ اور اسٹیک ہولڈر ڈائیلاگ سے سامنے آنے والی بحث اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کی آئندہ تشکیل میں حکومت، میڈیا اداروں، صحافیوں، تخلیق کاروں، اشتہاری ایجنسیوں اور سول سوسائٹی کے درمیان مسلسل مشاورت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں