گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تاریخی رام لیلا مندر سے ٹھیکیدار نے سامان نکالنا شروع کر دیا
ڈیرہ اسماعیل خان: رحیم بازار میں واقع تاریخی ‘رام لیلا مندر’ کے تحفظ کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کے تحریری احکامات اور نیلامی روکنے کے باضابطہ مکتوب کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے آج ٹھیکیدار نے مندر میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے اینٹیں اور دیگر سامان نکالنا شروع کر دیا ہے، جس سے علاقہ مکینوں اور اقلیتی برادری میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یاد رہے کہ پانچ سال قبل اس تاریخی مندر کی غیرقانونی نیلامی کی خبر کو دامان ٹی وی نے بریک کیا تھا جس کے بعد خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیم کے لٹیگیشن آفیسر کی جانب سے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان کو ایک ہنگامی خط (نمبر 550/KC-41/Archymus) ارسال کیا گیا تھا، جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ‘رام لیلا مندر’ خیبر پختونخوا اینٹیکیٹیز ایکٹ 2016 کے تحت ایک محفوظ تاریخی ورثہ ہے۔ خط میں ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ متروکہ وقف املاک کے زیرِ کنٹرول اس مندر کی اراضی پر پلازہ کی تعمیر کے لیے جاری نیلامی کا عمل آئینِ پاکستان اور اقلیتوں کے حقوق کے تحت فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ قانون کے مطابق محکمہ آثارِ قدیمہ اس کا قانونی سرپرست ہے اور اس جگہ کا تشخص تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
سرکاری سطح پر نیلامی روکنے کے احکامات کے باوجود علاقہ مکینوں کے مطابق آج صبح مندر کی عمارت سےٹھیکیدار نے مزدوروں کے ہمراہ قیمتی اور تاریخی سامان، لوہا اور اینٹیں ٹرالی میں نکالنا شروع کر دیا ہے۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ جب مزدوروں سے سامان نکالنے اور توڑ پھوڑ کرنے کی وجہ پوچھی تو وہ کام چھوڑ کر مندر کو تالے لگا کر چلےگئے۔
علاقہ مکینوں نے اس واقعے پر احتج اج کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب محکمہ آثارِ قدیمہ ڈپٹی کمشنر کو خط لکھ کر اس مندر کی نیلامی اور مسماری روکنے کا کہہ چکا ہے، تو کس قانون کے تحت ٹھیکیدار کو تاریخی عمارت کا سامان چوری چھپے نکالنے کی اجازت دی گئی ہے؟
شہریوں اور سماجی حلقوں نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، ایڈمنسٹریٹر برائے مخصوص اضلاع اور اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ ڈاکٹر حامد صدیق سے مطالبہ کیا ہے کہ خط پر فوری عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے مندر کو تالا لگا کر بھاگنے والے ٹھیکیدار اور محکمہ اوقاف کے ملوث افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے سخت کارروائی کی جائے اور اس تاریخی ورثے کو تباہی سے بچانے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں ماضی میں رحیم بازار میں واقع اس مندر میں ہندو برادری کے دسہرہ سمیت متعدد تقریبات کا انعقاد کیا جاتا تھا لیکن ٹھیکیدار مافیا اور محکمہ اوقاف کے کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے اس مندر کو نیلام کر کے پلازہ بنانے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں۔