ڈیرہ اسماعیل خان :چشمہ رائٹ بینک کینال پر پانی چوری کیخلاف آپریشن کو مذید تیز کیا جائے ، نہر سے پانی چوری ڈیرہ کی زراعت کیلئے کینسر بن چکا ہے جس کا بروقت تدارک وقت کی ضرورت ہے ایوانِ زراعت کا ایک اور اجلاس منعقد ہوا اجلاس کی صدارت ضلعی صدر ایوان زراعت حاجی عبد الرشید دھپ نے کی،اجلاس میں پنجاب کے علاقے تونسہ کے زمینداروں کے وفد نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حقداروں تک ان کا حق پہچانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ میں کینال پر سی آر بی سی واپڈا کی جانب سے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے لیکن اس میں مذید تیزی لانے کی ضرورت ہے نہر کے اوپری علاقے جن کا نہر کے پانی پر کوئی حق نہیں ہے وہ پانی چوری کرکے اپنا علاقہ زرخیز بنا رہے ہیں جبکہ وہ کاشتکار آج بھی پانی سے محروم ہیں اور انکی کروڑوں روپے کی فصلات تباہ ہو گئی ہیں جن کا اس پانی پر حا ہے اور وہ باقاعدہ ٹیکس دا کرتے ہیں اجلاس میں صوبائی اور وفاقی حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ اگر سی آر بی سی سے پانی کی چوری کو مکمل طور پر نہ روکا گیا تو خیبرپختونخوا کا واحد زرعی ضلع بنجر ہو کر رہ جائے گا حاجی عبد الرشید دھپ نے مزید کہا کہ ڈیرہ کی اکثریت آبادی بالواسط میں بلا واسطہ زراعت کے شعبہ سے جڑی ہے اور پانی مافیا کی بدولت لاکھوں خاندان بے روزگار ہو رہے ہیں اور علاقے کے زمیندار بے توقیر ہو رہے ہیں اجلاس میں علاقہ تونسہ شریف کے وفد کی قیادت کرنے والے عزیز اللہ خان قیصرانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چشمہ رائٹ بینک کینال سے جڑے سارے علاقے پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مکمل طور پر بنجر ہو گئے ہیں غیر قانونی طریقے سے پانی کی چوری کسی صورت قابل قبول نہیں ہے اور علاقے کی زرخیزی کیلئے ہم پانی مافیا کے خلاف آخری حد تک جائیں گے ڈیرہ اسماعیل خان کا ایک مخصوص مافیا نہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان بلکہ تحصیل تونسہ کے علاقے کو بھی بنجر کر رہا اور لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی چھین رہا ہے ۔ اجلاس میں ایوان زراعت ڈیرہ اسماعیل خان کے عہدیداروں کے علاوہ کاشتکاروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں جاوید گنڈہ پور ۔ ملک ثنا اللہ اسرا ۔ خضر ڈیال ، اقبال کھر ، عمیر افضل سدوزئی ، حنیف دھپ ۔ اور دیگر درجنوں زمینداروں نے اجلاس میں شرکت کی اور صوبائی و وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پانی چور مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کرکے حقداروں کو انکا حق دیا جائے اور علاقے کو بنجر ہونے سے بچایا جائے۔