29

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا سخت سیکورٹی میں حقنواز پارک جلسہ، عوام کی بڑی تعداد میں شرکت

ڈیرہ اسماعیل خان : جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہماری سیاست صداقت کی سیاست ہے ہماری سیاست انبیاء کی سیاست ہے، جب ہم اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کی جدوجہد کرتے ہیں تو یہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں کہ ہم کرسی اور اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں کرسی اور اقتدار کی سیاست تمہاری ہوگی ہماری نہیں، ترقی یافتہ شہروں کا جہاں ذکر ہوتا ہے وہیں ڈیرہ اسماعیل خان کا بھی ذکر ہوتا ہے، ڈیرہ اسماعیل خان میں کوئی ایسا بڑا منصوبہ نہیں جس پر جمعیت کے علاوہ کسی اور پارٹی کا نام ہو،8فروری کا معرکہ جمعیت علمائے اسلام جیتے گی ، لوگ کتاب کے نشان پر مہرلگائیں ۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علمااسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے ڈیرہ اسماعیل خان کے حق نواز پارک میں اپنی انتخابی مہم کے حوالے سے منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ، ان کی آمد پر انکا شاندار استقبال کیا گیا، جے یوآئی کے امیدوار پی کے 113سٹی ون کفیل احمد نظامی نے دیگر نامزد امیدواروں اور کارکنان کے ہمراہ مولانا فضل الرحمن کے پنڈال میں پہنچنے پر کھڑے ہو کر اور جھنڈے لہر ا کر ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ سابق ایم پی اے مولانا لطف الرحمن ، سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود ،انجینئر مولانا ضیاالرحمن ، مولانا عبید الرحمن اور ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقوں سے جمعیت کے نامزد امیدواران اسٹیج پر موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کرسی کی جنگ اگر مفادات کی جنگ ہے تو تمہیں مبارک ہو ان کو پتہ نہیں کہ سیاست کس زبان کا لفظ ہے اور بنے بیٹھے ہیں سیاستدان۔ ہماری سیاست صداقت کی سیاست ہے ہماری سیاست انبیاء کی سیاست ہے انہوں نے کہا کہ اسلام کو اقتدار کی کرسی پر بٹھانا ہماری منزل ہے اور یہ منزل ہم حاصل کر کے رہیں گے۔ جو پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا آج اس کی شناخت کو ختم کر دیا گیا ہے مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ آئین کہتا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالی کی ہوگی لیکن آج تک ہماری اسمبلیوں کو ایسے لوگوں سے بھر دیا گیا جنہیں قرآن و سنت سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسلام کے ذریعے پاکستان کو اپنی شناخت دینی ہے آپ لوگ اپنے گریبان میں جھانکیں تو سہی کہ آپ نے کلمہ کے ساتھ کیا کیا ہے؟ ہماری مخالفت چھوڑیے اپنا تعارف کرائیے اپنی شناخت کرائیے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئی ناجائز لڑائی نہیں لڑی ہم نے 2011اور 2012میں یہ ایجنڈا اٹھایا تھا کہ بیرونی لوگ ہم پر مسلط کر دیے گئے ہیں ،راکی طرف سے انہیں فنڈنگ ہو رہی ہے۔ اس وقت ہم نے کہا تھا کہ یہ لوگ ہندوستان اور اسرائیل کے فنڈز سے پاکستان میں پارٹی بنا رہے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں ریاست مدینہ کا، مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اب ساری باتیں کھل کر سامنے آ رہی ہیں مولانا اسرار اور حکیم سعید پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہودی ایجنٹ پاکستان کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ اسکو اس لیے پاکستان بھیجا گیا کہ یہ پاکستان سے اسرائیل کو تسلیم کرائیں۔ مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم نے فلسفہ جھاڑا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے ہماری معیشت بہتر ہو جائے گی اس پر ہم نے ملین مارچ کے ذریعے ان کی زبانوں کو خاموش کر دیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 2013میں خیبر پختونخواہ میں ان کی حکومت بنائی گئی تو میرے پاس بڑے لوگوں کا وفد آیا اور میرے ساتھ تین میٹنگز کیں جب ان سے اتفاق نہیں کیا تو انہوں نے مجھے کہا کہ وہ ایجنٹ بھی ہے اور مغربی تہذیب کا نمائندہ بھی ہے مگر یہ ہم نے اس لیے کیا کہ اگر پاکستان کو پیسہ چاہئے تو پیسہ یہودیوں کے پاس ہے مجھے کہا گیا کہ خیبر پختونخواہ میں اسلام کی جڑیں گہری ہیں جنہیں اکھاڑنے کے لیے عمران خان سے بہتر کوئی نہیں تھا۔ مجھے کہا گیا کہ مغرب سے پیسہ آئے گا تو اسلامی تہذیب کو پیسہ نہیں ملے گا۔ مجھے کہا گیا کہ پیسہ آئیگا تو تمہاری مسجد تمہارے خطیب تک بھی پیسہ پہنچے گا اور اگر ہماری بات نہیں مانو گے تو اکیلے رہ جا ئوگے ہم نے کہا اس پر ہم سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ امریکا جب افغانستان میں داخل ہوا تو ساری دنیا چھپ گئی تھی اس وقت بھی صرف جمعیت نے کہا کہ ہم امریکا کے افغانستان پر حملے کو جارحیت قرا ر دیتے ہیں۔ فلسطین پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ فلسطین میں عوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسرائیلی جنگ میں صرف عام لوگ مر رہے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔ فلسطین میں ہونیوالے مظالم پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ امریکا جو انسانی حقوق کی بات کرتا ہے وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ باقی لوگ دو مسئلے حل کرتے ہیں مگر ہم دس مسئلے حل کرتے ہیں۔ سی پیک کو درابن اور درازندہ سے گوادر تک پہنچانے، ٹانک زام، لفٹ کینال، چلڈرن اسپتال اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے کا اعلان بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو تو ہمیں بلایا جاتا ہے مگر جب منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجنے کی بات آئے تو پھر کسی اور کو آپ منتخب کرا دیتے ہیں ایسا تو نہیں ہونا چاہیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں