اندھا ونڈے ریوڑیاں ول ول کے آپنڑاں کوں!
گرلز کیڈٹ کالج ڈیرہ اسماعیل خان میں مبینہ طور پر 31 افراد کی قواعد ضوابط سے ہٹ کر غیر قانونی بھرتیاں کی گئی ہیں جن کی لسٹ “بنگلے” سے فراہم کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق میرٹ کے خلاف ان بھرتیوں میں گرلز ڈگری کالج نمبر 1 کی پرنسپل ڈاکٹر عافیہ سعادت کا اہم کردار ہے جو جونیئر ہونے کے باوجود بیک وقت تین ڈگری کالجز کی پرنسپل شپ بھی انجوائے کر رہی ہیں اور سونے پر سہاگہ کیڈٹ کالج کا انتظام و انصرام بھی ان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق نئے گرلز کیڈٹ کالج کی تکمیل ہو چکی ہے اور تیس کروڑ روپے کی خطیر رقم سے پرانے میڈیکل کالج کی تزئین و آرائش اور بحالی سمیت نئے ایڈمن بلاک کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے تاہم بھرتی اشتہار کے مطابق 31 افراد پر مشتمل عملہ متعلقہ تجربہ اور مطلوبہ قابلیت پر پورا نہیں اترتا لیکن اس کے باوجود ان افراد کو غیر قانونی طور پر بھرتی کر لیا گیا ہے اور اس کی بنیادی وجہ “بنگلے” کی سیاسی سفارش ہے۔ گرلز ڈگری کالج نمبر1 کی پرنسپل عافیہ سعادت کو گرلز کیڈٹ کالج کا نیا وائس پرنسپل تعینات کر دیا گیا ہے۔ ڈرائع کے مطابق نئے کالج میں بارہ سیکیورٹی گارڈز اور دو ٹیلیفون آپریٹر مطلوبہ قابلیت اور تجربہ بالکل نہیں رکھتے لیکن اس کے باوجود انہیں بھرتی کے پروانے تھما دیئے گئے ہیں اسی طرح دو باورچیوں، تین ڈرائیور سمیت دیگر عملہ بھی مطلوبہ قابلیت، کوالیفیکیشن اور تجربہ سے یکسر عاری ہے۔ سماجی اور تعلیمی حلقوں نے ان اکتیس سفارشی اہلکاروں کی غیر قانونی بھرتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری تحقیقات اور میرٹ کی بالادستی بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں نئے گرلز کیڈٹ کالج کی بنیاد ہی اگر میرٹ اور قانون کو پامال کرتے ہوئے سفارشی کلچر پر استوار ہو گی تو اس سے تعلیمی معیار اور میرٹ کس قدر پروان چڑھے گا دوسری جانب گرلز ڈگری کالج نمبر 1 کی پرنسپل عافیہ سعادت جو پچھلے کئی سال سے جونیئر (19 سکیل) ہونے کے باوجود (20 سکیل) کی پرنسپل سیٹ پر براجمان ہیں اور ان کے پاس پہلے ہی تین اضافی ڈگری کالجز کا چارج ہے انہیں ہی نئے گرلز کیڈٹ کالج ڈیرہ کی وائس پرنسپل شپ کیونکر دی گئی ہے یہ میرٹ، شفافیت، قانون اور تعلیمی ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ متعلقہ حکام اور ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا آخر ڈیرہ کی بچیوں کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں نہیں کر رہے ہیں۔