پی ٹی آئی کی حکومت میں محکمہ ایجوکیشن زنانہ کی 23 خواتین اساتذہ کی تقرریاں جعلی قرار، ملازمتیں ختم، تنخواہوں کی واپسی اور مقدمات درج کرنے کا حکم ( نہ DCS میں نام، نہ ایٹا ٹیسٹ نہ میرٹ پر لیکن اکائونٹ آفس سے تنخواہیں بھی جاری ہو گئیں)
ڈیرہ اسماعیل خان: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ ڈیرہ اسماعیل خان نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے 23 خواتین اساتذہ کی ابتدائی تقرریوں کو جعلی، غیر قانونی اور کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جاری کردہ حکم نامے کے مطابق مذکورہ اساتذہ کی خدمات فوری طور پر ختم کرنے، سرکاری خزانے سے وصول کی گئی تمام تنخواہیں واپس لینے، جبکہ متعلقہ افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کارروائی خیبر پختونخوا سروس ٹریبونل کے 3 اکتوبر 2025 کے مشترکہ فیصلے کی روشنی میں مکمل کی گئی۔ ٹریبونل نے متعلقہ اساتذہ کو صرف انکوائری کے مقصد کے لیے بحال کیا تھا، جس کے بعد محکمہ تعلیم نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور متعدد مرتبہ ذاتی سماعت کے لیے نوٹس جاری کیے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق تمام 23 اساتذہ کو تین مختلف مواقع پر طلب کیا گیا۔ رجسٹرڈ ڈاک، وکیل کے ذریعے نوٹسز اور اخباری اشتہار کے ذریعے بھی طلبی کی گئی، تاہم کوئی بھی امیدوار ذاتی سماعت کے لیے پیش نہ ہوا۔ مسلسل عدم حاضری پر انکوائری کمیٹی نے دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر یکطرفہ (Ex-Parte) فیصلہ سنایا۔
نوٹیفکیشن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ متعلقہ افراد کے نام محکمانہ سلیکشن کمیٹی (DSC) کی سفارشات میں موجود نہیں تھے، جبکہ ای ٹی ای اے (ETEA) ٹیسٹ میں یا تو شریک نہیں ہوئے یا میرٹ پر کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود مبینہ طور پر جعلی تقرری آرڈرز کے ذریعے نہ صرف ملازمت حاصل کی بلکہ ضلعی اکاؤنٹس آفس سے سرکاری تنخواہیں بھی وصول کرتے رہے۔
ضلعی ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) سیدہ انجم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں 16 اور 27 ستمبر 2022 کے مبینہ جعلی تقرری آرڈرز کو ابتداء ہی سے کالعدم (Null and Void Ab-initio) قرار دیتے ہوئے تمام تقرریاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
حکم نامے میں ضلعی اکاؤنٹس آفیسر کو متعلقہ اساتذہ کی تنخواہیں فوری بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ متعلقہ ایس ڈی ای او کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 416، 417، 419 اور 420 کے تحت جعلسازی، دھوکہ دہی اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر ایف آئی آر درج کرانے اور وصول کی گئی تمام تنخواہوں کی سرکاری خزانے میں واپسی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق متاثرہ 23 اساتذہ میں نائب ظفر، عنبر بی بی، سنبل اقبال، اسماء بی بی، ماہیہ کرن، سمیعہ زاہد، اقصیٰ لاریب، ایشا طارق، رمنا علی انصاری، کلثوم مشتاق، عائشہ اروج جعفری، شفاء پروین، فیاض گل، آمنہ بی بی، عائشہ صدیقہ ملک، ثمرہ بی بی، عمارہ انعام، عظمیٰ بتول، لائمہ گل، صائمہ بی بی، آسیہ بی بی، چندہ آفرین اور فرزانہ بی بی شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن 2 جولائی 2026 کو ضلعی ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب سے جاری کیا گیا تاہم جعلی تقرری آرڈرز میں ملوث ایجوکیشن آفس کا عملہ اور اکائونٹ آفس کے عملہ کو اس حوالے سے بچا لیا گیا ہے جنہوں نے تنخواہیں بھی جاری کر دیں جبکہ یہاں حقیقی بھرتیوں والے کئی کئی ماہ تنخواہوں کے اجراء کے لیے اکائونٹ آفس کی یاترا کرتے رہتے ہیں۔