لکشمی کی چمک یا غیروں پہ ستم اپنوں پہ کرم؟
محکمہ اعلی تعلیم خیبر پختونخوا، ڈگری کالج موسی کھر میں ایسوسی ایٹ پروفیسر (19 سکیل) کو ہٹا کر اسسٹنٹ پروفیسر (17 سکیل) انچارج پرنسپل مقرر
ڈیرہ اسماعیل خان: محکمہ اعلی تعلیم خیبر پختونخوا کی پرنسپلز کے لیے نئی گائیڈ لائنز کو روندتے ہوئے گرلز ڈگری کالج موسی کھر میں ایک اہم تعیناتی سوالات کی زد میں آ گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق 7 جولائی 2026 کو نگہت ظفر، ایسوسی ایٹ پروفیسر آف لاء، بی ایس-19 کو گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج موسی کھر کا انچارج پرنسپل/ڈی ڈی او مقرر کیا گیا تاہم ایک ماہ کے اندر ان کا نوٹیفکیشن واپس لے کر سمیرا مراد، اسسٹنٹ پروفیسر آف اردو، بی ایس-18 کو انچارج پرنسپل/ڈی ڈی او مقرر کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سمیرا مراد اس وقت بھی 17 سکیل کی پوسٹ پر گرلز ڈگری کالج نمبر 1 میں ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں لیکن سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے صرف ایک ماہ کے اندر ہی قوانین اور میرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں پرنسپل بنا دیا گیا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ 27 جولائی 2026 کو محکمہ اعلی تعلیم نے سرکاری کالجوں کے پرنسپلز کی تعیناتی کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کیں، جن کے مطابق پرنسپل کے لیے بی ایس-19 یا اس سے اوپر کے گریڈ میں ہونا اہلیت کا حصہ ہے۔
یوں نئی پالیسی کے اجرا کے چند روز بعد ہی بی ایس-19 کی سینئر پروفیسر کی جگہ بی ایس-18 کی جونیئر پروفیسر ( حال ہی میں پروموشن ہوئی ہے) کی تعیناتی نے سینیارٹی، میرٹ اور نئی گائیڈ لائنز کے اطلاق پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں البتہ یہ لکشمی کی چمک ہے یا غیروں پہ ستم اور اپنوں پہ کرم کی پالیسی ہے یہ سب سے اہم سوال ہے۔