میڈیا ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن “ارادہ” کی تعمیری ماحولیاتی صحافت پر تین روزہ ٹریننگ

مری — انسٹٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈوکیسی اینڈ ڈیولپمنٹ (ارادہ – IRADA) نے انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (IMS) کے تعاون سے ڈیجیٹل میڈیا کے ایڈیٹرز اور رپورٹرز کے لیے کنسٹرکٹیو کلائمیٹ جرنلزم (تعمیری ماحولیاتی صحافت) پر تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا کامیابی سے انعقاد کیا۔
شنگریلا ہوٹل مری میں 18 سے 20 ستمبر تک جاری رہنے والی اس ورکشاپ کا مقصد پاکستان میں ماحولیاتی رپورٹنگ کے روایتی سنسنی خیز انداز کو تبدیل کر کے اسے ٹھوس شواہد اور حل پر مبنی (solutions-oriented) کوریج کی طرف راغب کرنا تھا۔
ماحولیاتی بیانیے میں تبدیلی:
ورکشاپ میں میڈیا کو درپیش جدید چیلنجز، جیسے خبروں سے عوام کی دوری (news avoidance)، معلومات کی بھرمار اور سنسنی خیزی کے باعث صحافت پر گرتے ہوئے عوامی اعتماد پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ٹرینرز واجد علی، آصف مومند اور وقاص نعیم نے شرکاء کو روایتی ‘تباہی پر مبنی’ رپورٹنگ سے ہٹ کر تعمیری صحافت کے تین بنیادی ستونوں سے روشناس کرایا:
حل (Solutions): ماحولیاتی مسائل کے خلاف کمیونٹیز کی موافقت (adaptation)، بحالی اور عملی راستوں کا جائزہ لینا۔
باریک بینی (Nuance): کسی بھی مسئلے کو صرف سیاہ و سفید میں دیکھنے کے بجائے اس کے تمام پہلوؤں اور گہرائی کو سامنے لانا۔
عوامی مکالمہ (Democratic Conversation): “جو جتنا ہولناک ہے، وہی سرخی بنے گا” (if it bleeds, it leads) کی سوچ کو بدل کر عوام کو بحث کا حصہ بنانا۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کے کثیر الجہتی اثرات:
تربیت کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی الگ تھلگ ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا بحران ہے جو روزگار، معاشی استحکام، نقل مکانی، طرزِ حکمرانی اور سماجی عدم مساوات کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔
شرکاء نے بی بی سی یوزر نیڈز (BBC User Needs) ماڈل کا استعمال کرتے ہوئے ایسے ماحولیاتی اسٹوری آئیڈیاز تیار کیے جو عوام کی روزمرہ ضروریات کے مطابق ہوں اور پیچیدہ سائنسی ڈیٹا کو عام شہریوں کے لیے قابلِ فہم بنا سکیں۔
باہمی تعاون اور رپورٹنگ گرانٹس:
اس تین روزہ ایونٹ کا ایک اہم عملی نتیجہ مختلف ڈیجیٹل میڈیا ہاؤسز کے مابین مشترکہ اسٹوری پچز (story pitches) کو حتمی شکل دینا تھا۔ ان آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے اور شائع کرنے کے لیے ‘ارادہ’ کی جانب سے میڈیا کوہورٹ کو مواد کی تیاری کے لیے خصوصی گرانٹس (content production grants) دی جائیں گی، تاکہ مشترکہ تحقیقاتی صحافت کو فروغ مل سکے۔
اس سے قبل، ‘ارادہ’ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد آفتاب عالم نے پاکستانی میڈیا کے تناظر میں تعمیری صحافت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے میڈیا کی ترقی کے لیے ‘ارادہ’ کی گزشتہ چند برسوں کی کاوشوں کا ذکر کیا اور ملک میں ماحولیاتی شعور اور عوامی مفاد کی صحافت کے معیار کو بلند کرنے پر انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (IMS) کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں