دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عوام اور میڈیا کا تعاون ناگزیر ہے، معاون خصوصی طارق سعیدمروت

ڈیرہ اسماعیل خان، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عوام اور میڈیا کا تعاون ناگزیر ہے، ریاست دشمن عناصر کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے: سپیشل اسسٹنٹ ٹو چیف منسٹر خیبر پختونخوا برائے محکمہ داخلی و قبائلی امور طارق سعید۔ تفصیلات کے مطابق سپیشل اسسٹنٹ ٹو چیف منسٹر خیبر پختونخوا برائے محکمہ داخلہ و قبائلی امور طارق سعید، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ اور انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے کے موقع پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، میڈیا اور عوام کو باہمی تعاون اور یکجہتی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن داؤد خان،ریجنل پولیس آفیسر غلام مبشر میکن، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔سپیشل اسسٹنٹ ٹو چیف منسٹر طارق سعید نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور جنوبی اضلاع سمیت پورے صوبے میں امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور عوام کے تعاون سے امن دشمن قوتوں کو ہر محاذ پر شکست دی جائے گی مگر اس کیلئے ہم سب کو ایک ٹیم کی طرح اور ایک پیج پر رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ امن کے قیام کیلئے ہم نے یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہے تاکہ جلد ہی اس فتنے سے نجات حاصل کر سکیں۔ہم نے اس میسج کو پھیلانا ہے کیونکہ یہ جنگ ایک بے بنیاد اور بے مقصد جنگ ہے کیونکہ اس کے دوران سوائے دہشت پھیلانے کے کچھ حاصل نہیں ہونا اور اس کا نقصان عوام اور علاقے پر پڑتا ہے اور روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن اور جنوبی اضلاع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، دہشت گردی کے حالیہ واقعات، حکومتی حکمت عملی اور آئندہ کے سکیورٹی اقدامات سے متعلق مختلف سوالات کیے، جن کے جواب میں حکام نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات، خصوصاً ٹانک اور جنوبی اضلاع میں پیش آنے والے سانحات پوری ریاست کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہیں، تاہم حکومت اور سکیورٹی ادارے ان عناصر کے خلاف مربوط اور مؤثر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کیپیسٹی بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔دہشتگردوں کو جو سپورٹ حاصل ہے ہم نے اس کا تدارک کرنا ہے۔ انٹیلیجنس اور اطلاعات کی بنیاد پر کاروائی عمل میں لاتے ہوئے بہت سے واقعات کو بچایا بھی جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔چیف سیکرٹری نے عوام اور میڈیا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاستی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، مشکوک سرگرمیوں، شرپسند عناصر اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت سے متعلق بروقت اور مستند معلومات متعلقہ اداروں تک پہنچائیں تاکہ فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے دہشت گردوں کو کسی بھی قسم کی پناہ، سہولت یا تعاون فراہم نہ کرنا دہشت گردی کے خاتمے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ذمہ دارانہ صحافت اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں کے پھیلاؤ سے اجتناب کیا جائے تاکہ عوام میں بے چینی پیدا نہ ہو اور ریاستی ادارے مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام نے دہشتگرد ی کے خلاف جنگ میں بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں ابھی بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے جو سانحہ اے پی ایس کے بعد قوم نے دکھایا لہذا دہشتگردی کی اس لہر کے دوران بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کرنا ہے اور متحد ہو کر مقابلہ کر نا ہے۔انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا نے کہا کہ پولیس، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے اور پولیس ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جدید اسلحہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ دہشتگردوں کے خلاف موثر کاروائیوں کو یقینی بنایا جا سکے۔آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت، ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، میڈیا اور عوام باہمی اعتماد، تعاون اور ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ خیبرپختونخوا، بالخصوص جنوبی اضلاع میں دیرپا اور پائیدار امن کا قیام یقینی بنایا جا سکے۔ تمام اہم شخصیات نے دہشتگردوں کے حملے میں زخمی اہلکاروں کی عیادت کی جس کے بعد گزشتہ شب مانجھی خیل چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کے حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ نماز جنازہ مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں