ڈیرہ اسماعیل خان: تھانہ گومل یونیورسٹی پولیس نے وانڈہ بلوچانوالہ میں قائم مدرسہ سیدہ حاجرہ للبنات کے مہتمم کے خلاف کم عمر طلبہ سے مبینہ ز یاد تی اور جا ن سے ما ر نے کی د ھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ نمبر 341/26 درج کر کے واقعے کی باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقدمہ مستغیث محمد مقبول کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ امام مسجد صفدر حسین نےایک طالب علم سے ز یاد تی کی کوشش کی جبکہ مدرسے کے مہتمم مولوی محمد عامر نے مختلف اوقات میں 11 سے 16 سال کی عمر کے چار بچوں کو اپنے آفس روم میں بلا کر مبینہ طور پر نا زیبا ا فعال کا نشانہ بنایا اور کسی کو بتانے کی صورت میں جا ن سے ما ر نے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔
مستغیث کے مطابق خوف کے باعث بچوں نے ابتدائی طور پر کسی کو واقعے کے بارے میں نہیں بتایا، تاہم بعد ازاں معاملہ سامنے آنے پر پولیس سے قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔
پولیس نے رپورٹ کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف دفعات 376 اور 506 جبکہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ (CPWA) کی دفعہ 53 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق متاثرہ بچوں کو طبی معائنے کے لیے سول ہسپتال ڈیرہ منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ کیس کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ مقدمے میں عائد الزامات کی حتمی تصدیق تفتیش اور قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔