گومل یونیورسٹی میں مالیاتی اصلاحات اور جعلی ڈگری سکینڈل پکڑنے پر وائس چانسلر کو جبری رخصت

جامعہ گومل کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال بلوچ کو اصلاحاتی اقدامات بالخصوص جعلی اسناد پکڑنے پر جبری رخصت پر بھیج دیا گیا

خیبر پختونخوا حکومت نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں مبینہ انتظامی بے ضابطگیوں، سیکیورٹی مسائل اور غیر میرٹ بھرتیوں کی شکایات پر بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کو 90 روز کے لیے جبری رخصت پر بھیج دیا ہے۔مبینہ طور پر انکوائری کمیٹی نے جبری رخصت پر بھیجنے کی سفارش گومل یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر کی موجودگی میں کی جن کے دور میں گومل یونیورسٹی میں جعلی ڈگریوں کا سکینڈل رونما ہوا۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی منظوری سے یونیورسٹیز ایکٹ 2012 کے تحت کیا گیا، جس میں انکوائری کمیٹی کی سفارشات شامل تھیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یونیورسٹی کے سینئر انتظامی افسر عمران اللہ خان کو عارضی طور پر رجسٹرار کے فرائض سونپ دیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی کے مختلف معاملات جیسے سیکیورٹی، ہاسٹل امور، بھرتیاں اور انتظامی و مالی بے ضابطگیوں سمیت دیگر شکایات کی تحقیقات کے لیے تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان کریں گے۔ کمیٹی کو دو ہفتوں میں شواہد کی بنیاد پر رپورٹ جمع کرانے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارشات دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق جعلی ڈگری سکینڈل میں عمران خان کے قریبی سیکیورٹی گارڈ اور سابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے گارڈ عارف خٹک کی سال 2023-24 میں جعلی ڈگری جاری کی گئی تھی اور جعلی ڈگریوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی پر وائس چانسلر گومل یونیورسٹی ڈاکٹر ظفر اقبال کو نوے دن کے لیے جبری رخصت پر بھیج دیا گیا واضح رہے وائس چانسلر نے گومل یونیورسٹی میں آتے ہی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے پچھلے سات سال سے جاری مسائل حل کر کے یونیورسٹی کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا اور تعلیمی معیار کے لیے خاطر خواہ اقدامات کرتے ہوئے میرٹ پر پروموشن اور نئی بھرتیاں کیں جس کی یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے بعد عدالت نے بھی توثیق کی تاہم جعلی ڈگری سکینڈل سامنے آنے کے بعد ان کے بے لچک رویے سے تنگ آ کر آخرکار جبری رخصت پر بھیجا گیا ہے اور یونیورسٹی کے ہاسٹل نمبر میں میں منشیات پکڑے جانے اور قائد اعظم کیمپس میں لاء کالج کے سٹوڈنٹ کے زخمی ہونے پر مزید انکوائری کے لیے کمشنر ڈیرہ کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں